نئی دہلی،7؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )این جی ٹی نے جنتر منتر کے آس پاس سبھی احتجاجی مظاہرین پرجمعرات کو پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ کورٹ نے مقام کو رام لیلا میدان لے جانے کا بھی اختیار دیا ہے۔ جنتر منتر میں طویل وقت سے کئی تحریکیں ہوئی ہیں جن سے ملک کی حالت اور سمت بھی طے ہوئی ہے۔ یہ مقام الگ الگ طرح کے مخالف مظاہروں کا گواہ رہا ہے۔ یہاں چل رہی ایک ہڑتال کے بارے میں جان کر آپ تعجب میں پڑ جائیں گے۔
این ڈی ٹی وی نے اس مقام پر جاکر یہ کوشش کی کہ جنتر منتر سے مظاہرین کو ہٹائے جانے سے پہلے کچھ ایسے لوگوں کی کہانیاں سامنے لائیں جو نہ جانے کتنی مدت سے اپنی مانگ کو لے کر مظاہرہ کررہے ہیں۔ جنتر منتر کی کہانیوں میں سب سے الگ اور دلچسپ کہانی جے پور کی جے شانتی شرما کی ہے۔ 45سال کی جے شانتی گزشتہ ایک ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں اور مطالبہ بھی ایسا کہ جسے سن کر لوگ انہیں پاگل کہتے ہیں۔ ہم نے جے شانتی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے شادی کرنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں صرف مودی جی ہی سمجھ سکتے ہیں۔جے شانتی کا مطالبہ تو ان کے شوہر نے 1989میں انہیں شادی کے ایک سال بعدہی چھوڑدیا تھا۔ وہ تب سے اکیلی ہیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ انہیں کئی لوگوں نے شادی کی تجویز پیش کی لیکن انہیں وزیر اعظم نریندر مودی میں ہی وہ بات نظر آئی۔جے شانتی سے ہم نے جب پوچھا کہ مودی جی کی تو پہلے ہی جسودا بین سے شادی ہوچکی ہے تو جے شانتی نے فوراً جواب دیا کہ مودی جی تو جسودا بین کے ساتھ رہتے نہیں۔ جے شانتی نے یہ بھی کہا کہ اگر مودی جی مان گئے تو وہ جہیز میں مودی جی کو دو کروڑ روپئے بھی جہیز کے طور پر اپنی آبائی زمین فروخت کرکے دیں گی۔