ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جیب کاٹنے کے لئے تین چار  لوگ  آتے ہیں،  ایک توجہ ہٹاتا ہے اور دوسرا جیب صاف کر دیتا ہے، یہی کام میڈیا کررہا ہے؛ راہل گاندھی

جیب کاٹنے کے لئے تین چار  لوگ  آتے ہیں،  ایک توجہ ہٹاتا ہے اور دوسرا جیب صاف کر دیتا ہے، یہی کام میڈیا کررہا ہے؛ راہل گاندھی

Wed, 18 Jan 2023 10:51:38    S.O. News Service

نئی دہلی، 18؍ جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی ) راہل گاندھی نے گودی   میڈیا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ  میڈیا مرکزی مدعوں سے توجہ ہٹانے کی کوششوں  میں مصروف ہے اور یہی وجہ ہے کہ  وہ شاہ رخ خان، سچن تیندولکر اور ایشوریہ رائے کی خبروں کو دکھاکر  عوام کو بے وقوف بنارہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ  اس طرح کے مصالحہ دار خبریں دکھا کر میڈیا ملک کے اصل مسائل بالخصوص، بے روزگاری، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل پر سے توجہ ہٹانے میں لگا ہے۔   اپنی بات کو سمجھانے کے لئے راہل گاندھی نے جیب کترے کی مثال پیش کی، جس میں انہوں نے کہا کہ جیب کترا اکیلا نہیں آتا بلکہ ان کے ساتھ تین چار  مزید لوگ  بھی آتے ہیں،  ایک توجہ ہٹاتا ہے اور دوسرا جیب صاف کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ   میڈیا بھی ایسا ہی   کام کر رہا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ  ’جن ہندوؤں کی اور ہندو مذہب کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت بات کر رہے ہیں وہ اس ملک کے ہندو مذہب کا نظریہ نہیں ہے، گاندھی نے مزید کہا کہ  وہ آر ایس ایس کا مذہب ہو سکتا ہے‘  ۔    گاندھی  نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران انہوں نے بھاگوت والے ہندو مذہب کو کہیں نہیں دیکھا۔ انہوں نے اس تعلق سے بھگوان رام کی ہمدردی کا بھی ذکر کیا۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ حال ہی میں موہن بھاگوت نے بیان دیا ہے کہ ’ہندوؤ ں کا جارح ہونا قدرتی بات ہے اور مسلمانوں کو اپنی بالادستی والی ذہنیت ترک کرنی ہوگی۔‘

بی جے پی کے رہنما اور اپنے چچا زاد بھائی ورن گاندھی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ ان سے مل سکتے ہیں اور ان کے ساتھ گلے لگ سکتے ہیں، لیکن انہوں نے سنگھ کے نظریہ کو اپنایا ہے اس لئے وہ ان کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا ’میری سنگھ کے ساتھ ایک نظریاتی لڑائی ہے اور میں اپنا گلا کٹا سکتا ہوں لیکن سنگھ کے دفتر نہیں جاؤں گا۔‘

ہوشیارپور میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے ایک فیصد لوگوں کے پاس ملک کی 40 فیصد دولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 21 لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے جتنا 70 کروڑ لوگوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ملک میں 21 امیروں کی جگہ کئی ہزار امیر ہونے چاہئے تاکہ زیادہ لوگوں کے پاس پیسہ ہو۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پنجاب نہیں پورے ملک کا مسئلہ بڑھتی بے روزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار اگر صحیح چلیں گے اور کسانوں کے مسائل حل ہوں گے تو اس سے بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوگا اور اس کے حل ہونے کے ساتھ نشہ سمیت کئی مسائل حل ہوں گے۔

راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی کا ایک نفرت کا نظریہ ہے اب اس بھارت جوڑو یاترا نے دوسرا نظریہ پیش کیا ہے اس لئے اب ملک کے سامنے دو نظریات ہیں اور لوگوں نے بھارت جوڑو یاترا سے پیدا ہونے والے نظریہ کو قبول کر لیا ہے۔

راہول گاندھی  نےعام آدمی پارٹی کی موجودہ حکومت کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس ایک موقع تھا لیکن پنجاب کے عوام ان سے خوش نہیں ہیں اور اب کانگریس کے لئے اچھا ماحول ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ بی جے پی یہ تو نہیں کہے گی  کہ وہ سب جگہ ہار رہی  ہے، لیکن بھارت جوڑو یاترا کے دوران مجھے احساس ہوا ہے کہ عوام میں ان کے خلاف کافی ناراضگی ہے۔ 


Share: