چنتامنی،8 /مارچ (محمد اسلم/ایس او نیوز)ہمارتے ملک ہندوستان آزاد ہوکر 70سال کا عرصہ ہورہا ہے مگر دیہی علاقوں آج بھی لوگ جھونپڑیوں میں زندگی گزار رہے ہیں مرکزی و ریاستی حکومتیں ملک کو جھونپڑوں سے پاک ملک بنانے کا عزم کر تی آرہی ہے مگر اس پر عمل نہیں ہورہا ہے یہ بات رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی ۔
آج شہر کے منسپالٹی دفتر میں ضلع انتظامیہ و تعلقہ انتظامیہ کے زیر اہتمام دیہی علاقوں کے لوگوں کو سائٹس تقسیم کرنے کیلئے منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے اجلاس میں شریک پی ۔ڈی۔ او۔افسروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ افسران دیہی علاقوں کا معائنہ کرکہ جن دیہاتوں میں غریب مستحق لوگ جھونپڑیوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو مکانات تعمیر کرکہ مددکریں انہوں نے شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتی افسر صرف جعلی دستاویز اور نقلی بل تیار کرکہ دیہی علاقوں کے عوام کو بلاک میل کرکہ خوب پیسہ وصول کرنے میں8 لگے ہوئے ہیں افسران دیہی علاقوں میں ڈیوٹی صرف پیٹ پالنے کے لئے کررہے ہیں افسروں کو دیہی علاقوں کے عوام کے مسئلوں کو حل کرنے کی کچھ فکر نہیں ہے حکومت سے دیہی علاقوں کے جھونپڑیوں میں زندگی جی رہے لوگوں کو گھر تعمیر کرنے کیلئے فنڈ دیا جارہا ہے لیکن افسران جن کو گھر ہے انہیں کو دوربارہ حکومت کے اسکیم میں گھر تعمیر کرکہ دے رہے ہیں دیہی علاقوں کے غریبوں کا افسران خون چوس رہے ہیں۔
کرشناریڈی نے کہا کہ جو افسر عوام کی فلاح بہودی کے لئے کام نہ کرے ویسے افسر کی بالکل ہمارے حلقہ کیلئے کوئی ضرورت نہیں ہے لودیہی علاقوں میں کئی بورویل پانی کیلئے ڈالا گیا ہے لیکن بورویلوں میں پانی ہونے کے باجود گرام پنچایتی سے اُس میں پمپ موٹر نصب کرکہ پانی سپلائی نہیں کیا جارہا ہے گرام پنچایتی کے افسران اور پی ڈی اوز بہت ہی لاپراہ ہوچکے ہیں گرام پنچایتی افسران کو صرف پیسے کی فکرلگی ہے ان کو عوام کے مسائل حل کرنے پرکچھ توجہ نہیں ۔
دیہی علاقوں کے مستحق لوگوں کو اب تک بھی بی پی ایل راشن فراہم نہیں کیا گیا متعلقہ افسران بی پی ایل راشن کارڈ بناکر دینے کے لئے رشوت مانگ رہے ہیں اور راشن ڈپو میں اناج بھی ٹھیک طرح فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔
کرشناریڈی نے مزید کہا کہ مرکزی وریاستی حکومتیں قریوں میں بیت الخلاء تعمیر کرکہ دینے کے لئے فنڈ دیا گیا ہے لیکن دیہی علاقوں کے افسران کی لاپروائی سے دیہی علاقوں کے عوام کے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہورہے ہیں افسران ڈیوٹی کرنے کے بجائے دیہی علاقوں میں سیاست کررہے ہیں سدارمیا کی حکومت مستحق لوگوں کیلئے بہت کچھ سہولتیں فراہم کررہی ہے لیکن افسران سدرامیا کے نام کو بدنام کررہے ہیں گرام پنچایتی کے افسران دیہی علاقوں میں پانی سربراہی کرنے میں بھی سیاست کررہے ہیں افسران کو چاہئے کہ پانی کے نام پر سیاست کرنا چھوڑ دے اگر سیاست کرنا ہے تو افسران ڈیوٹی سے استعفیٰ دیکر کسی پارٹی میں شامل ہوجائے ۔
بعد ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر دیپتی ادتیہ کناڈی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں بے گھر لوگوں کو سائٹس دینے کیلئے ریاستی حکومت نے 118ایکڑ زمین کی نشاندہی کی ہے انہوں نے کہا کہ چنتامنی تعلقہ کے کسبہ ہوبلی میں 83ایکڑ امباجی درگ میں 63ایکڑ مونگن ہلی میں 50ایکڑ کیوار ہوبلی میں 52ایکڑچلکنرپور میں 82ایکڑاور مرغ ملہ ہوبلی میں 66ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی ہے ان زمینوں کا سروے کرنے بعد اس کی رپورٹ لیکر حکومت کو بھیجی جائیگی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں اکثر مقیم لوگوں کو گھر نہیں ہے بے گھر مقیم لوگوں کی نشاندہی کرکہ فوراََ انہیں گھر تعمیر کرکہ دیا جائے حال ہی میں ایس ۔سی اور ایس۔ٹی۔طبقہ کے لوگوں کو 18مکانات تعمیر کرکہ دیا گیا ہے مقیم بے گھر لوگ گھر حاصل کرنے کے لئے عرضیوں کو گرام پنچایتی میں بھرتی کئے ہیں فوراََ ہی ان عرضیوں کی جانچ کی جائے ۔
اس موقع پر ضلع پنچایتی رُکن نرملا ،تعلقہ پنچایتی صدر شنتما نائب صدر شرنیواس تحصیلدار گنگپا منسپالٹی کمشنر بی این منی سوامی بلدیہ صدر سجاتا شیونا ضلع پنچایتی رُکن اسکول سبا ریڈی سرکل انسپکٹر ہنومنتپا ڈی وائی ایس پی کرشنامورتی سمیت کئی تعلقہ کے سرکاری افسران سمیت عوامی نمائندے موجود رہے۔