دمشق،25اگست؍؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کی سرحد کے قریب واقع قصبے جرابلس پر سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم کروا لیا ہے۔شامی باغیوں کا، جنھیں ترک اور امریکی فضائیہ کی معاونت حاصل تھی، کہنا ہے کہ جرابلس پر اب ان کا قبضہ ہے۔بدھ کو شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کے سلسلے میں ترکی کے ایک درجن کے قریب ٹینک سرحد عبور کر کے شامی قصبے جرابلس میں داخل ہوئے تھے۔ترکی نے آپریشن کا آغاز جرابلس پر شدید بمباری سے کیا جس میں توپخانے اور ترک فضائیہ کا استعمال کیا گیا جس نے 12ہوائی حملے کیے۔ترک فوج کے مطابق علاقے پر 224راکٹ داغے گئے جبکہ ترک فضائیہ نے بمباری بھی کی۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد دولت اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنانا ہے۔شامی سرحد کے قریب واقع قصبے غازی عنتب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین کے مطابق ترکی نے اس ہفتے علاقے میں موجود شامی کرد دستوں پر گولہ باری کی تاکہ وہ دولت اسلامیہ کے جانے کے بعد پیدا ہونے خلا کو نہ پر کر سکیں۔نامہ نگار کے مطابق ترکی کو خدشہ ہے کہ کرد کہیں اس کے سرحد کے قریب ایک خودمختار علاقہ نہ قائم کر لیں جس سے ترکی اندر کرد علیحدگی پسند تحریک کو تقویت ملے۔ترکی نے یہ آپریشن ایک ایسے وقت شروع کیا ہے جب بدھ کے روز امریکی نائب صدر ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔یہ 15جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے کسی بھی مغربی اہلکار کا ترکی کا سب سے اعلیٰ سطح کا دورہ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق ٹینکوں کے بعد کچھ چھوٹی گاڑیاں بھی سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہوئیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان گاڑیوں میں ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی جنگجو سوار تھے۔