نئی دہلی، 6؍فرور ی (ایس او نیوز؍ایجنسی) جامعہ نگر تشدد کیس میں شرجیل امام، آصف اقبال تنہا اور صفورہ زرگر سمیت ۱۱؍ملزمین کو دہلی کی عدالت سے ڈسچارج ملنے کے ایک دن بعدکانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ فوجداری انصاف کا نظام جو مقدمے سے پہلے قید کا ارتکاب کرتا ہے، ہندوستان کے آئین، خاص طور پر آرٹیکل ۱۹؍ اور ۲۱؍کی توہین ہے۔ سپریم کورٹ کو قانون کے اس روز بروز غلط استعمال کو روکنا چا ہئے اور اسے جتنا جلد روکا جائے اتنا بہتر ہوگا۔انہوں نے سپریم کورٹ سے گزارش کی کہ وہ قانون کے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بیجااستعمال کا خاتمہ کرے ورنہ اسی طرح سے اس کا غلط استعمال ہوگا اور ملک کے نوجوانوں کو ہراساں کیا جاتا رہے گا۔
یاد رہے کہ دہلی کی عدالت نے جامعہ تشدد کیس سےیہ کہتے ہوئے ڈسچارج کردیاکہ پولیس نے ان سبھی کو بلی کا بکرا بنایاتھا اور یہ بھی کہا کہ اختلاف رائے کوئی غلط چیز نہیں ہے یہ آئین ہند میں دئیے گئے بنیادی حقوق میں ایک طرح کی توسیع ہے۔
چدمبرم نے جج ارول کمار کے انہی تبصروں کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں اختلاف رائے کو بڑھاوا دیا جانا چاہئے ، ساتھ ہی اس سلسلے میں وہ اقدامات کرنے چاہئیں کہ اسے فروغ ملے اور اس پر گفتگو کی ۔ اسے کچلنے کی کوشش بالکل نہیں ہونی چاہئے۔چدمبرم نے ٹویٹ کرکے پوچھا کہ’’ دہلی کی ٹرائل کورٹ نے جو مشاہدہ کیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تشدد کے واقعات سے متعلق کیس میں شرجیل امام اور ۱۰؍دیگر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا۔ کیا ملزمین کے خلاف ثبوت تھے؟ ہرگز نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ کچھ ملزمین تقریباً ۳؍سال سے جیل میں قید ہیں۔ بعض کو کئی مہینوں بعد ضمانت مل سکی۔ یہ مقدمے سے پہلے کی حراست ہے۔ نااہل پولیس شہریوں کو مقدمے سے پہلے جیل میں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ ملزمین نے جو مہینے یا سال جیل میں گزارے ہیں وہ کون واپس کرے گا؟ سابق وزیر مالیات پی چدمبرم کے مطابق اس فیصلے نے اور اس سے قبل سی اے اے کے معاملے میں دئیے گئے فیصلوں نے پولیس اور انتظامیہ کی قلعی کھول دی ہے۔