برلن3،مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جرمن حکام نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اختیارات میں اضافے کے حوالے سے عنقریب ہونے والے ریفرنڈم کے لیے جرمنی میں ریلیوں اور اجتماعات کے انعقاد کو روک دیاہے۔یونین آف یورپیئن ترک ڈیموکریٹس کی جانب سے آج مغربی شہر گاگیناؤ میں ایک ریلی نکالی جانی تھی، جس میں ترک وزیر انصاف بیکر بورزداگ مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے والے تھے۔ تاہم مقامی حکام نے ایک ہال میں اس ریلی کے انعقاد کی اجازت یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ متعلقہ ہال کی گنجائش اتنی نہیں۔ اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ باڈ روٹن فیلس کے ہال میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہاں اتنی زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہو سکیں۔ بیان کے مطابق آج ہونے والی تقریب کی خبر پورے خطے میں پھیل گئی تھی اور امکان تھا کہ بہت زیادہ لوگ اس میں شرکت کے لیے گاگیناؤ کا رخ کرسکتے ہیں۔دریں اثناء جرمن شہر کولون میں بھی حکام نے اعلان کر دیا ہے کہ یونین آف یورپیئن ترک ڈیموکریٹس کو اتوار کے روز ہونے والی ایسی ہی ایک ریلی کے انعقادکے لیے ایک ہال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس تقریب میں ترک وزیر اقتصادیات نیہات زیبی کی شرکت کرنے والے تھے۔ریفرنڈم کے دوران عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری مہم کے دوران ’جو ترکی سے محبت رکھتے ہیں ریفرنڈم میں ہاں کے حق میں ووٹ ڈالیں‘ کا نعرہ استعمال کیا جا رہا ہے جس پر جرمنی میں تنقید کی جا رہی ہے۔ جرمنی میں سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدان اْوزوس بھی تْرک نڑاد ہیں۔ اْوزوس کا کہنا تھا کہ ترکی میں مجوزہ آئینی اصلاحات ’’ملکی ترقی اور ملک میں قانون کی بالادستی کے حق میں نہیں ہیں۔‘‘ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی نظام کے بعد ترک صدر پارلیمان کے سامنے جواب دہ نہیں رہیں گے اور صدر کا عہدہ لامحدود اختیارات کا حامل ہو گا جس کے باعث ملک میں عدلیہ کی خود مختاری بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث ملک میں استحکام پیداہوگا۔