ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیٹی کی شادی میں بیف کی اجازت مانگی ، پولیس نے کہا چکن سے کام چلاؤ

بیٹی کی شادی میں بیف کی اجازت مانگی ، پولیس نے کہا چکن سے کام چلاؤ

Tue, 28 Mar 2017 14:02:12    S.O. News Service

مرادآباد میں پولیس اور انتظامیہ کا دوٹوک جواب ، شادی میں بیف کھلانے کی قطعاً اجازت نہیں۔ پوری ریاست میں اس کاروبار سے وابستہ دکانداروں کے ساتھ عوام بھی پریشان ، کئی جگہوں پر مرغ اور بکرے کے گوشت کی بھی اجازت نہیں۔ بعض نے شادیوں کی تاریخیں آگے بڑھائیں ۔ مختلف اضلاع میں ڈی ایم کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل۔ ہفتہ خوری میں اضافے کا خدشہ

مرادآباد؍ الہ آباد؍ مرزا پور ؍ کانپور ،27؍ مارچ ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی ) اترپردیش میں غیر قانونی مذبح پر لگی پابندی کے سبب شادی کے پروگرام میں بھی بیف بنانے کی اجازت نہیں ملی ۔ معاملہ مراد آباد کے ایک خاندان کا ہے جہاں بیٹی کی شادی میں بڑے جانور کا سالن بنانے کیلئے عرضی دے کر پولیس سے منظوری طلب کی گئی تھی، لیکن پولیس نے ان کی عرضی مسترد کردی۔ عرضی دینے والے خاندان کے رکن سرفراز نے بتایا کہ میں عرضی لے کر گیا تھا ، انہوں نے (پولیس نے ) عرضی مسترد کردی اور مشورہ دیا کہ ہم چکن سے کام چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس درخواست کی ضرورت اسلئے پڑی، کیوں کہ ہمارامنشا تھا کہ اس طرح ان تمام خاندان کو تھوڑی راحت مل جائے گی ، جن کے یہاں کچھ اہم تقاریب ہیں لیکن پولیس نے اجازت ہی نہیں دی۔

خیال رہے کہ ریاست کی نئی ھکومت نے غیر قانونی مذبح کو بند کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی وجہ سے کئی مذبح پر کارروائی کی گئی ہے ۔ ان کارروائیوں کا ایک طبقہ حمایت کررہا ہے جبکہ ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ اسی طرح سلاٹر ہاؤس اور گوشت کی دکانیں بند ہونے سے قریشی برادری کے بعد اب اس کا اثر عوام پر بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ لوک تنتر بچاؤ مورچہ نے اس کی وجہ سے کلکٹر یٹ پر مظاہرہ کیا اور ایک مکتوب بذریعہ ضلع مجسٹر یٹ وزیر اعظم ہند کو ارسال کیا۔ اس مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا آئین اور جمہوری نظام ملک کے ہر باشندے کو اپنی مذہبی روایت اور قومی وارثت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے ، کھانے پینے اور کاروبار کرنے کی مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن نو منتخب بی جے پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ فرمان جاری کر کے آئینی مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

غیر قانونی مذبح کو چلنے سے روکنے کیلئے اب ڈی ایم کی صدارت میں کمیٹیاں کی تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں ڈی ایم سمیت کئی افسران شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے علاقوں میں واقع مذبح کا معائنہ کریں گی۔ چوری چھپے کہیں بھی جانوروں کو ذبح نہ کیا جائے ، اس کیلئے بڑے پیمانے پر منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

کانپور میں دو ہزار سے زائد مقامات پر بکرا اور دیگر جانوروں کے گوشت کی فروخت ہوتی رہی ہے لیکن آدتیہ ناتھ یوگی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انتظامیہ نے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش میں اتنی سختی کردی کہ ان میں سے بیشتر دکانیں بند ہوگئیں۔ یہاں ڈی ایم کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں ایس ایس پی ، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کے علاقائی افسر، مویشی صحت افسر، ڈویژنل افسر ٹرانسپورٹ ، لیبرانفورسمنٹ اہکار، ضلع پنچایتی راج افسر، سی ایم او، فوڈ سیکوریٹی محکمہ کے افسر اور سٹی کمشنر کو شامل کیا گیا ہے۔

الہ آباد میں بھی گوشت کی دکانوں پر پابندی عائد کئے جانے سے دکانداروں میں کافی پریشانی اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں قیمہ ، برگر ، بریانی اور کباب پراٹھوں کی دکانیں بند ہونے سے انالہ اور نخاس کہنہ بازار کی رونق چلی گئی ہے۔ یہاں بھی چکن اور مٹن کی دکانیں بند کرائی جارہی ہیں۔ اس طرح کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ لائسنس یافتہ دکانداروں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے اور کسی سطح پر انکی کوئی سماعت بھی نہیں ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم اکثریتی محلوں کے شادی ہالوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ شادیوں میں بکرے اور مرغ کے گوشت کا استعمال کرنے بھی گھبرارہے ہیں اور بعض لوگ شادیاں ملتوی بھی کرنے پر مجبور ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ نئے لائسنس کیلئے لوگ نگر نگم کا چکر کاٹ رہے لیکن بیشتر مایوس ہوکر واپس آرہے ہیں۔ مرزاپور میں غذائی تحفظ شعبے کے چیف افسر کی قیادت میں رتن گنج اور رام باغ میں غیر قانونی کہہ کر وہاں جاری گوشت کی بیشتر دکانوں کو بند کرادیا گیا اور ان دکانوں کے مالکان کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ۔ بند کرائی گئی دکانوں میں بکرا اور مرغ کے گوشت کی دکانیں بھی شامل ہیں۔ ڈی ایم کی ہدایت پر ہونے والی اس کارروائی کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ تمام دکاندار خوف زدہ ہیں۔


Share: