بنگلورو،28؍نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی طرف سے شہر کے رہائشی علاقوں میں آکیو پنسی سرٹی فکیٹ کے بغیر پانی کیلئے کنکشن حاصل کرنے پر 50 فیصد جرمانہ اور تجارتی علاقوں میں کسی طرح کا کنکشن حاصل کرنے پر 100 فیصد جرمانہ لاگو کرنے کے متعلق جاری کئے گئے سرکیولر کی آج بی بی ایم پی کونسل اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین نے سخت مخالفت کی ۔ آج جیسے ہی میٹنگ شروع ہوئی جنتادل (ایس) کے رکن اسمبلی گوپالیہ ، کانگریس کارپوریٹر ایم کے گنا شیکھر اور اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے یہ معاملہ اٹھایا اور کہاکہ فوری طور پر بی بی ایم پی افسران کو ہدایت دی جائے کہ یہ متنازعہ سرکیولر واپس لیا جائے ۔ گوپالیہ نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ شہر میں بی بی ایم پی کی طرف سے تمام جائیدادوں کو باقاعدگی دینے کیلئے اکرما سکرما اسکیم لاگو کی جارہی ہے جب تک کہ یہ اسکیم مکمل طور پر لاگو نہیں ہوجاتی ، بی ڈبلیو ایس ایس بی یا کسی بھی ادارہ کو ایسا کوئی سرکیولر جاری کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کا سرکیولر جاری کرکے رہائشی اور تجارتی علاقوں میں پانی کے کنکشن کاٹنے کی دھمکیاں دے کر بی ڈبلیو ایس ایس بی نے خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر جرمانہ ادا نہیں کیا گیا تو پانی اور ڈرینج کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے قدیم وارڈوں میں مقیم لوگوں کو بی ڈبلیو ایس ایس بی کے اس سرکیولر کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ پرانی عمارتوں کیلئے بی بی ایم پی یا کسی بھی بلدی ادارہ کی طرف سے کوئی آکیوپنسی سرٹی فکیٹ نہیں دی گئی ہے۔بی ڈبلیو ایس ایس بی کے اس حکم سے غریب اور متوسط طبقات کی پریشانی بڑھ چکی ہے۔ بی جے پی کے پدمانابھا ریڈی نے کہاکہ بلدی اداروں سے مشورہ کئے بغیر اس طرح کا سرکیولر جاری کرنا غیر دانشمندی ہے۔ جب تک کہ اکرما سکرما اسکیم کے تعلق سے سپریم کورٹ میں فیصلہ نہیں ہوجاتا ایسا کوئی سرکیولر جاری نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد خود واٹر بورڈ کے ممبر ہیں۔اس سرکیولر کے اجراء کے مرحلے میں انہیں توجہ دینی چاہئے تھی۔ انہوں نے بتایاکہ شہر کے 50 فیصد گھروں کیلئے بھی بی بی ایم پی یا کسی اور بلدی ادارہ سے آکیوپینسی سرٹی فکیٹ نہیں دی گئی ہے، کیا ان تمام گھروں سے 50 فیصد جرمانہ وصول کیا جائے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں 200تا 500 اپارٹمنٹس تعمیر کرکے فروخت کرنے کے بعد مالکان غائب ہوچکے ہیں، ان مکینوں کو جرمانہ کیوں ادا کرنا پڑے؟۔ اس مرحلے میں میئر سمپت راج نے مداخلت کرتے ہوئے تیقن دیا کہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کو فوری طور پر ہدایت دی جائے گی کہ اس متنازعہ سرکیولر کو بلاتاخیر واپس لیا جائے۔