نئی دہلی،24؍ نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے جمعہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہر انتخاب سے پہلے رام مندر کے مسئلے کو اچھالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پارٹی کے لئے صرف ووٹ حاصل کرنے کی ایک چال ہے۔ کانگریس کے ترجمان مینش تیواری نے صحافیوں کو بتایا، ’’بی جے پی کے پاس بھگوان رام یا رام مندر پر کچھ کرنے کے لئے نہیں ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ساڑھے چار سال سے مرکز میں ہے۔ ایک پارٹی جو خود پر اعتماد کرتی ہے کہ لوگوں کو ان کے کام کی بنیاد پر پاس جانا چاہئے، لیکن رام مندر کہاں بنے گا ، یہ معاملہ گزشتہ 30 سال سے لٹکا ہوا ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ اجودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے بی جے پی کے ایم ایل سریندر سنگھ نے کہا کہ ’بھگوان رام‘ کا مندر لوگ خود بنا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت آنے پر اس دن 1992 کی تاریخ دہرائی جائےگی۔ جس طرح 1992 میں آئین کو طاق پر رکھ کر بابری مسجد منہدم کر دی گئی تھی، ضرورت پڑی تو آئین کو طاق پر رکھ کر رام مندر بنایا جائےگا۔