بھٹکل یکم جون (ایس او نیوز) شمس الدین سرکل کے قریب نقصان شدہ ڈرینیج پائپ کی مرمت کے بعد ڈرینیج کا مسئلہ عارضی طور پر حل کردیا گیا ہے اور مسلم محلوں کے بیچوں بیچ گذرنے والی شرابی ندی جہاں ڈرینج کا گندہ پانی چھوڑے جانے سے ندی گھٹر میں تبدیل ہوگئی تھی، اب ندی میں ڈرینج پانی کے اخراج کو بند کیا گیا ہے۔ اس بات کی اطلاع بھٹکل میونسپالٹی کے سابق نائب صدر اور متاثرہ علاقہ کے کونسلر جناب قیصر محتشم نے دی۔
انہوں نے بتایا کہ بھٹکل میونسپالٹی کے چیف آفسر سمیت میونسپل انجینئر کے ساتھ مسلسل اس مسئلہ کو حل کرنے کی طرف توجہ دیتے ہوئے عارضی طور پر معاملہ سلجھالیا گیا ہے، لیکن انہوں نے میونسپل چیف آفسر سریش سے درخواست کی ہے کہ نئے پائپ لائن کا کام نیشنل ہائی وے کے تعمیراتی کام کے دوران بھٹکل کورٹ کی طرف رُکا ہوا ہے، اُسے فورا مکمل کیا جائے اور متعلقہ کنٹریکٹر کو بلاکر کام کو فوری شروع کرنے کے لئے کہا جائے۔ قیصر محتشم نے بتایا کہ غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشن سے علاقہ کے عوام کو جس طر ح کی پریشانی ہورہی ہے، اُس کا مستقل حل تلاش کیا جارہا ہے، مگر فی الحال اس پمپنگ اسٹیشن کو دوسری طرف شفٹ کرنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔
تازہ واقعے کے بعد قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات سے آگاہی حاصل کی اور کونسلر قیصر محتشم اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین ایس ایم عبدالعظیم کے ساتھ گفت وتشنید کرنے کے ساتھ ساتھ میونسپل چیف آفسر سریش سے بھی رابطہ کرتے ہوئے فوری اقدام کرنے کی ہدایت دی ۔ بتایا گیا ہے کہ منگل کو شرابی ندی میں گندے پانی کے اخراج کے بعداُسی رات متعلقہ پائپ کی مرمت کی گئی اور اگلے ہی روز یعنی بدھ کو ہی شرابی ندی میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ بند کیا گیا۔

البتہ ایک پرائیویٹ عمارت کو منہدم کرنے کے دوران جس طرح ایک پائپ کو نقصان پہنچنے سے قریب سو سے زائد کنویں خراب ہوگئے ، اُن کنووں کی مرمت کا کام ابھی بھی باقی ہے۔
تنظیم جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نےبتایا کہ تنظیم صدر عنایت اللہ شاہ بندری کی صدارت میں اس تعلق سے تنظیم عہدیداروں اور متعلقہ علاقہ کے کونسلروں کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی تھی اور میونسپل چیف آفسر سمیت میونسپل انجینر کے ساتھ بھی میٹنگ بلاکر مسئلہ کو عارضی طور پر ہی سہی جلد سے جلد حل کرنے کی طرف توجہ دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سو سے زائد کنویں جو خراب ہوگئے ہیں، اُن کنووں میں ابھی بھی ڈرینج کا گندہ پانی داخل ہونا بند نہیں ہوا ہے، اس تعلق سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین منڈے عبدالعظیم اور کونسلر قیصر محتشم کو ایک رپورٹ تیار کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور تمام متاثرہ کنووں کی میونسپالٹی کے ذریعے مرمت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
میونسپل چیف آفسر سریش نے بتایا کہ جتنے بھی کنویں خراب ہوئے ہیں، میونسپالٹی کی طرف سے اُن تمام کنووں کی مرمت کی جائے گی۔ مزید بتایا کہ فی الحال عارضی طور پر پائپ کی مرمت ہوئی ہے، پائپنگ کا کام کورٹ کے پاس جہاں کام رُکا ہوا ہے، وہاں کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ شمس الدین سرکل کے قریب ڈرینیج پائپ کو نقصان پہنچنے کے بعد جس طرح خلیفہ اسٹریٹ، جامعہ اسٹریٹ، مشما اسٹریٹ اور دیگر متصل علاقوں کے کنووں کے اندر گھٹر کا گندہ پانی جمع ہونا شروع ہوگیا تھااور کنویں مکمل طور پر خراب ہوگئے تھے، کنووں کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشن سے ڈرینج کے گندے پانی کا رُخ شرابی ندی کی طرف موڑ دیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی شرابی ندی، جو بار بار گندے پانی چھوڑے جانے سے پہلے ہی خراب ہوچکی ہے، پھر ایک بار بڑے پیمانے پر گھٹر کا پانی چھوڑنے سے پوری ندی گھٹر میں تبدیل ہوتی نظر آئی تھی، جس کے ساتھ ہی ندی کی سینکڑوں اور ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہوگئیں۔ اب ویسے تو ڈرینج کا پانی ندی میں نہیں چھوڑا جارہا ہے، مگر غوثیہ اسٹریٹ کی طرف ندی کا پانی ابھی بھی صاف نہیں ہوا ہے اور ڈرینج کا پانی ابھی بھی بڑی مقدار میں جمع ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے چند دنوں میں اگر شہر میں اچھی خاصی بارش ہوتی ہے تو ندی صاف ہوسکتی ہے ۔