بھٹکل، 20 ؍ ستمبر (ایس او نیوز) گزشتہ چند دنوں سے بھٹکل میں چل رہے نچھل مکّی وینکٹرمنا مندر مہادوار اور سلطان اسٹریٹ کراس پر ٹیپو سلطان گیٹ تعمیر کرنے کے تنازعہ میں مقامی رکن اسمبلی سنیل نائک نے بلاوجہ قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کو گھسیٹنے کی کوشش کی تھی اس کے رد عمل میں تنظیم کی طرف سے اخباری بیان کے ذریعہ ایم ایل اے کے الزامات کا منھ توڑ جواب دیا گیا ہے۔
تنظیم دفتر سے جاری اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ مندر کا مہا دوار تعمیر کرنے کے معاملہ میں تنظیم نے نہ کسی بھی قسم کی مداخلت کی ہے اور نہ ہی ٹی ایم سی میں کوئی شکایت کی ہے ۔ ایم ایل اے سنیل نائک نے جان بوجھ کر اس معاملہ میں تنظیم کو گھسیٹا ہے اور اس بات کو عوام بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ بات بات پر ایم ایل اے کا یہ کہنا کہ یہ پاکستان نہیں ہے ، بڑے افسوس کی بات ہے ۔ ایک ذمہ دار منصب رہنے والے شخص کو اس طرح کے بیانات زیب نہیں دیتے ۔ ایم ایل اے ہونے کی حیثیت سے تمہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ہمیں بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے تم لوگوں کو حاصل ہیں ۔
اخباری بیان میں سنیل نائک کو مخاطب کرکے مزید کہا گیا ہے کہ سو سال کی تاریخ رکھنے والی اس تنظیم نے کبھی بھی تمہاری جیسی پست ذہنیت کا مظاہرا نہیں کیا ہے ۔ ہماری تاریخ ہے کہ ہم نے ہمیشہ بھائی چارگی ، امن و امان اور مل جل کر جینے کی کوشش کی ہے ۔ تمہاری طرح بلاوجہ دوسروں کے مذہبی معاملات میں ناک گھسیڑنا تنظیم یا مسلم سماج کا طریقہ نہیں ہے ۔ سیاسی مفاد کے لئے تم جو چاہے کرلو ، لیکن اگر یہ سمجھتے ہو کہ یہاں کے ہندووں اور مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاوگے تو یقیناً یہ تمہاری بے وقوفی ہے ۔
ایم ایل اے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تم نے جب سے جیت حاصل کی ہے تب سے اب تک کسی نہ کسی انداز میں فرقہ وارانہ اشتعال دلانے کی باتیں کر رہے ہو ، ترقیاتی کاموں کو چھوڑو ، تمہیں جیت دلانے والے عوام کو سکھ چین سے جینے کا موقع نہیں دے رہے ہو ۔ ہر معاملے میں ٹانگیں اڑا کر تم نے پورے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ اب جبکہ الیکشن کو صرف چند مہینے باقی رہ گئے ہیں تو 'مہادوار' تعمیر کرنے کا ناٹک لے کر آ گئے ہو ۔ مہادوار کی تعمیر کی مخالفت نہ تنظیم نے کی ہے اور نہ ہی مسلم سماج نے کی ہے ، اور آئندہ بھی نہیں کریں گے ۔ ٹی ایم سی کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ تم جو چاہے اور جہاں چاہے تعمیر کرلو ۔ قانونی طور پر یہ کام ممکن نہ ہونے کی وجہ سے تم نے یہ انتخابی ہتھکنڈا استعمال کیا ہے اور تنظیم کے خلاف بیان دے کر ووٹ حاصل کرنے کی ترکیب اپنائی ہے ۔ تمہیں بھولے بھالے ہندووں کو اس طرح ورغلانے سے باز آنا چاہیے ۔ پتہ نہیں آئندہ الکشن کے لئے تمہیں ٹکٹ ملے یا نہ ملے ۔ اب جو چند مہینے باقی بچے ہیں کم از کم اس میں عوامی مفاد کے کام انجام دو ۔ اس کے بحائے جن معاملات سے مسلم سماج اور تنظیم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اس میں تنازعات کھڑے کرکے اپنے آپ کو داغدار مت کرو ۔
سنیل نائک کو یاد دلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم لوگ کس حد تک بھائی چارگی اور میل ملاپ کے ساتھ جیتے آئے ہیں یہ بات اپنے بزرگوں سے پوچھ کر سمجھنے کی کوشش کرو ۔ ہماری یہ تاریخ ہے کہ ہم نے سیکڑوں سال سے ہندو بھائیوں کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ اس کی بہت ساری مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں ۔ چناپٹنا ہنو منتا مندر، ماری کٹا مندر کے معاملات میں تعاون کے علاوہ اسارکیری نچل مکّی مندر کے آگے راستہ موڑنے کے معاملے میں بھی ہم نے کوئی اعتراض نہیں جتایا تھا ، حالانکہ وہاں واقعی عوام کے لئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں، اس کے باوجود ہم نے برداشت کرلیا ۔ یہ ہمارے اور نامدھاری سماج کے بیچ قائم اعتماد اور محبت کا نتیجہ ہے ۔ اب تم ایک ذمہ دارانہ منصب پر رہتے ہوئے سیاسی مفادات کے لئے یہ جو غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کر رہے ہو، اس کے لئے نہ عوام تم کو معاف کرے گی اور نہ بھگوان تمہیں معاف کر سکتا ہے ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہندو، مسلم ہو یا ایم ایل اے اور وزیر ہو، سب کے لئے ایک قانون موجود ہے ۔اسی کی پاسداری کرنا ضروری ہے ۔ ہماری طرف سے ٹی ایم سی پر کسی قسم کا دباو نہیں ہے ۔ تم اگر قانونی اجازت کے ساتھ تمہارے مندر کے پاس گیٹ تعمیر کرتے ہو تو ہمارے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا اسی طرح کوئی اور سلطان اسٹریٹ میں گیٹ تعمیر کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے بھی ہماری طرف سے کسی قسم کی پشت پناہی نہیں ہے ۔
ایم ایل اے کی طرف سے بھٹکل میں غیر قانونی تعمیرات ہونے کی بات کا جواب دیتے ہوئے تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات ہیں تو اس کی وجہ یہاں پر سروے نہ ہونا، کچھ قانونی پیچیدگیاں اور دیگر مسائل ہیں ۔ اس وجہ سے تم بعض عمارتوں کو شاید غیر قانونی کہہ رہے ہو ۔ انہیں حل کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ ایم ایل اے کے طور پر تمہیں ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کے علاوہ دوسرے عوامی مسائل کی طرف توجہ دینے کی فرصت کہاں ہے ؟ اگر واقعی تمہیں عوام کی فکر ہے تو پھر اب تک جو کچھ کر رہے ہو اسے چھوڑ کر حقیقی مسائل حل کرنے کا کام کرو ۔
کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ ان پانچ سالوں میں ایک ایم ایل اے کے طورپر تم نے بھٹکل شہر کی ترقی کے لئے کیا کام کیے ہیں ؟ شہر میں یو جی ڈی کا مسئلہ ہے ۔ پرانی مچھلی مارکیٹ کو نئی مارکیٹ میں منتقل کرنے کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ٹی ایم سی صدر کا کہنا ہے کہ اسے حل کرنے میں تم خود ہی رکاوٹ ڈال رہے ہو ۔ دنیا جانتی ہے کہ تم ہی بلاوجہ مقامی بلدیہ کے معاملات میں اپنی ناک گھسیڑتے ہو ۔ اور اس وجہ سے ترقیاتی کام رک گئے ہیں ۔
اخباری بیان میں سنیل نائک سے واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ مہربانی کرکے بار بار پاکستان - ہندوستان کا نام لے کر بھولے بھالے لوگوں کو بے وقوف مت بناو ۔ عام لوگ اب ایسی باتوں پر یقین نہیں کرتے ۔ کیونکہ ہم پکے ہندوستانی ہیں ۔ ہمارے لئے ہندوستان اہم ہے ۔ تم صرف چند زبانی باتوں کی حد تک ہی ہندوستانی ہو، لیکن ہم لوگ اپنے دل کی گہرائیوں سے اس ملک اور اس سرزمین سے پیار کرتے ہیں۔ یہ بات بھلا تم جیسے لوگوں کو کیسے سمجھ میں آسکتی ہے ۔ چونکہ انتخاب سامنے ہے اس لئے تم کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کرکے ہندو سماج کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہو ۔
مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر ایس ایم سید پرویز اور جنرل سیکریٹری عبدالرقیب ایم جے کی دستخط سے جاری کیے گئے اس بیان کے آخر میں ایم ایل اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آئے اور ہندووں اور مسلمانوں کو امن و شانتی اور ہم آہنگی کے ساتھ جینے کا موقع دیا جائے ۔