ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : اسکولی طلبہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گیا یو جی ڈی کا تعمیری کام  

بھٹکل : اسکولی طلبہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گیا یو جی ڈی کا تعمیری کام  

Sun, 25 Jun 2023 13:56:32    S.O. News Service

بھٹکل ،25 / جون (ایس او نیوز) بھٹکل شہر اور جالی پٹن پنچایت علاقے میں گزشتہ دو سال قبل شروع  کیا گیا انڈر گراونڈ ڈرینیج کا کام ابھی تک پورا نہ ہونے کی وجہ برسات کے موسم میں اسکولی بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے ۔ 
    
امسال تاخیر سے شروع ہونے والا مانسون اس وقت اپنی رفتار پکڑ رہا ہے اور گزشتہ دو تین دنوں سے شہر اور اطراف کے علاقوں میں موسلا دھار بارش دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس دوران یو جی ڈی کے لئے کھودے گئے رستوں کو بند کرنے کے لئے جو مٹی بھری گئی تھی وہ برساتی پانی میں کیچڑ میں تبدیل ہو کر اندر دھنسنے سے گڈھے پڑنے لگے ہیں اور اسکولی طلبہ کو لانے اور لیجانے والی بسیں بیچ سڑک پر ان گڈھوں میں دھنسنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں ۔ 
    
ایسا ہی ایک واقعہ کل جالی پٹن پنچایت علاقے میں مزمل مسجد کے پاس صبح سویرے پیش آیا ، جس میں شہر کے ایک نجی اسکول بس کے دو پہیے پوری طرح سڑک کے گڈھے میں دھنس گئے ۔ خوش قسمتی سے بس میں موجود طلبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ اب اس سڑک کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہاں سے کسی بھی موٹر گاڑی کا گزرنا خطرے کو دعوت دینے کے برابر ہوگیا ہے ۔ 
    
گزشتہ دو سال قبل شروع کیے گئے یو جی ڈی منصوبے کا کام انتہائی غیر معیاری ہونے کے علاوہ سست رفتار کا شکار ہوگیا ہے اور یہ آدھا ادھورا کام عوام کے ساتھ اسکولی طلبہ کے لئے وبال جان بن گیا ہے ۔ اس طرح کچا اور ادھورا کام کرنے اور عوام کو تکلیف دینے والے افسران کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےبھٹکل ناگرک ہوراٹا سمیتی کے صدر ستیش کمار نے  فوری طور پر اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔ 
    
 ستیش کمار نے کہا کہ بھٹکل میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے کانکریٹ کے رستے یو جی ڈی کے نام پر من مانے طریقے سے کھودے گئےہیں اور سڑکوں کی حالت خراب کرکے رکھ دی گئی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ غیر سائنٹفک طریقے سے کیا جا رہا یو جی ڈی کا کام صرف خانہ پری کے لئے انجام دیا جا رہا ہے ۔ اگر یہ تعمیراتی کام جلد مکمل نہیں کیا گیا تو ہوراٹا سمیتی کی طرف سے اس کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا ۔ 


Share: