بھٹکل 21 جولائی (ایس او نیوز) غریبوں کو مکانات تعمیر کرنے کے لئے سرکار کی طرف سے مختلف اسکیم کے تحت جو فنڈ آرہے ہیں، ہمیں اس تعلق سے کسی طرح کی معلومات نہیں دی جارہی ہے، نہ ہمیں اعتماد میں لے کر اس فنڈ کا استعمال ہورہا ہے، نہ ہم سے کوئی رائے مشورے لئے جارہے ہیں اور نہ ہی ہمیں پوچھا جارہا ہے کہ ہمارے وارڈس میں کون کون لوگ غریب اور مستحق ہیں۔ اس بات کی شکایت جالی پٹن پنچایت کے کونسلروں نے آج جمعرات کو بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک سے کی۔ شکایتوں کی سماعت کرتے ہوئے سنیل نائک نے چیف آفسر کو ہدایت دی کہ وہ ان اسکیموں کے تعلق سے تمام کونسلروں کو خبر دے، پروگرام میں کونسلروں کو شریک کرائیں ۔ ایم ایل اے نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ چیف آفسر نے کونسلروں کو ہاوسنگ اسکیم کے متعلق جانکاری نہیں دی تھی۔
ایم ایل اے سنیل نائک نے کونسلروں سے کہا کہ آج 35 لوگوں کو سرکاری اسکیم کے تحت گھر تعمیرکرنے کا اجازت نامہ دیا گیا ہے، مزید 50 مکانات تعمیر کرنے کے لئے ہفتہ عشرہ کے اندر مزید فنڈ سرکار کی طرف سے آنے والا ہے۔ ایم ایل اے نے کونسلروں کو ہدایت دی کہ اُن کے جو بھی مسائل ہیں وہ تحریری طور پر اُنہیں دیں۔ ایم ایل اے نے یہ بھی کہا کہ کن کن علاقوں میں کس طرح کے اور کیا کیاترقیاتی کام انجام دینے ہیں، اُس تعلق سے بھی تحریر ی درخواست دیں، وہ اس پر غور کریں گے اور ہرممکن تعاون فراہم کریں گے۔

جالی پٹن پنچایت کے قریب واقع میٹنگ ہال میں آج صبح سال 2021-22 واجپائی نگر ہاوسنگ اسکیم اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر رہائشی اسکیم کے تحت غریب لوگوں کو مکانات تعمیر کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے فنڈ کی فراہمی کا تعمیراتی اجازت نامہ دینے کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس کے تحت بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک کے ہاتھوں 35 لوگوں کو اجازتی خط تقسیم کیا گیا۔ اس تعلق سے جانکاری فراہم کرتے ہوئے جالی پٹن پنچایت کے چیف آفسر آر ایم ورنیکر نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت عام غریب لوگوں کے لئے 2.70 لاکھ اور شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب زمرہ کے لوگوں کے لئے سرکار کی طرف سے 3.50 لاکھ روپئے کی امداد منظور ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف اُن غریب لوگوں کو مکان تعمیر کرنے یہ امدادی فنڈ منظور ہوتا ہے جن کے پاس خود کی زمین ہو، مزید بتایا کہ یہ رقم چار مرحلوں میں اُن کے بینک اکاونٹ میں جمع کی جاتی ہے۔
جیسے ہی اجازتی خط تقسیم کرنے کی کاروائی اختتام کو پہنچی، کونسلروں نے ایم ایل اے کو گھیر لیا اور بتایا کہ اُنہیں اس اسکیم کے تحت کوئی معلومات نہیں دی گئی ہے اور بغیر کسی کو کچھ بتائے من مانے طریقے سے لوگوں کو فنڈ کی منظوری کا اجازت نامہ دیا گیا ہے۔ جواب دیتے ہوئے ایم ایل اے سنیل نائک نے بتایا کہ جن لوگوں نے مکانات تعمیر کرنے کے لئے درخواستیں دے رکھی تھیں، اُن میں سے ہی آج35 لوگوں کو مکانات تعمیر کرنے کا اجازت نامہ دیا گیا ہے۔
ایم ایل اے سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس اصلاح و تنظیم کی حمایت سے جیت درج کرنے والے اور ایس ڈی پی آئی سے تعلق رکھنے والے کونسلرس محمد توفیق بیری اور وسیم منیگار نے ایم ایل کو مشورہ دیا کہ اس طرح کی اسکیم آنے پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو جانکاری دی جانی چاہئے اور ذات پات اور دھرم وغیرہ کی تقسیم کئے بغیر مستحق لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچانا چاہئے، جب ایم ایل ے نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ جن لوگوں نے درخواستیں دی ہیں اُن کو ہی اس اسکیم کے تحت مکانات تعمیر کرنے کا فنڈ منظور کیا گیا ہے تو توفیق بیری نے کہا کہ کم ازکم پنچایت کے کونسلروں کو اعتماد میں لے کر کام کو آگے بڑھانا چاہئے تھا۔ اس بات پر ایم ایل اے نے چیف آفسر کو پوچھا کہ کیا آج کے پروگرام کے تعلق سے کونسلروں کو خبر نہیں دی گئی تھی اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا تو چیف آفسر نے قبول کیا کہ کونسلروں کو جانکاری نہیں دی گئی تھی۔ ایم ایل اے نے چیف آفسر کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ ہر اسکیم اور پروگرام کے تعلق سے کونسلروں کو خبر دیں۔ ایم ایل اے نے کونسلروں سے بھی کہا کہ وہ بھی اپنی طرف سے تحریری درخواست دیں۔ اس موقع پر تنظیم کی حمایت سے منتخب ہونے والے کونسلرس مصباح الحق شیخ، مُنیر صاحب، ارشاد بانو، فرحانہ وغیرہ موجود تھیں۔
بعد میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد توفیق بیری نے بتایا کہ آج جن 35 لوگوں کو فنڈ منظور ہوا ہے، اُس میں صرف پانچ مسلم ہیں۔ توفیق بیری نے الزام لگایا کہ کونسلروں کو بتائے بغیر من مانے طریقے پر اور مخصوص لوگوں کے لئے ہی فنڈ منظور کئے گئے ہیں۔ اسی طرح کا الزام مصباح الحق نے بھی لگایا اور کہا کہ چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے اور جالی پٹن پنچایت میں عہدیداران کا انتخاب نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کام نہیں ہورہے ہیں، عوام کے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں۔