بھٹکل 15 / جولائی (ایس او نیوز) اسٹریٹ لائٹس لگانے کا ٹینڈر دینے کے سلسلے میں ٹاون میونسپل کونسل کا خصوصی عام اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ جس میں کونسلرس کرشنا نند پائی، شریکانت نائک، شری پد کنچوگار وغیرہ نے کہا کہ جاری میعاد والے عائشہ الیکٹریکلس سے کئی مرتبہ شکایت کرنے کے باوجود وہ اسٹریٹ لائٹ درست نہیں کرتے ۔ پوچھنے پر بلب نہیں ہے ، وائر نہیں ہے جیسے جواب دیتے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی ان کی غیر اطمینان بخش کارکردگی پر کونسل کے اجلاس میں بحث ہوئی ہے اور انہیں نوٹس بھی دیا گیا ہے ۔ اسٹریٹ لائٹ لگائے بغیر ہی انہیں سالانہ 18 لاکھ روپے مفت میں دئے جا رہے ہیں ۔ صبح 8 بجے تک لائٹ بند نہیں کی جاتی ۔ اب کسی بھی حالت میں اُس ٹھیکیدار کو یہ ٹینڈر نہیں دینا چاہیے ۔ کچھ رکن خواتین نے بھی اس کی تائید کی۔
جواب دیتے ہوئے میونسپل انجینر اُمیش مڈیوال نے اراکین کو بتایا کہ ٹی ایم سی کے حدود میں اسٹریٹ لائٹس لگانے کے تعلق سے نیا ٹینڈر طلب کیا گیا ہے ۔ تین افراد کی طرف سے ٹینڈر موصول ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بھٹکل کے عائشہ الیکٹریکلس نے سب سے کم رقم کی بِڈنگ کی ہے ۔ لیکن ان کی جاری میعاد کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے ۔ ان کے کام کے تعلق سے ملنے والی شکایات دیکھتے ہوئے انہیں ٹینڈر منظور کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے دوسرے نمبر پر جو بِڈنگ ہوئی ہے انہیں ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس پر اعتراض جتاتے ہوئے میونسپالٹی کے نائب صدر قیصر محتشم نے کہا کہ جنہوں نے کم رقم کی بڈنگ کی انہی کو ٹھیکہ دینے سے کونسل کو سالانہ 2 لاکھ روپے کی بچت ہوگی ۔ اس کے علاوہ اس ٹھیکیدار کو ٹی ایم سی کی طرف سے باقاعدگی کے ساتھ بل ادا نہ کیے جانے کی شکایت بھی ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے صدر پرویز قاسمجی نے کہا کہ ٹھیکیدار خود ہی باقاعدگی سے بل پیش نہیں کرتا ۔ گزشتہ 3 مہینے کا بل آج پیش کیا گیا ہے ۔ پھر بل وقت پر ادا نہ کرنے کی شکایت کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
مگر نائب صدر قیصر محتشم، کونسلرس الطاف کھروری ، عبدالعظیم اور عبدالرووف نائطے وغیرہ نے پرانے ٹھیکیدار کی ہی حمایت کی اور کہا کہ پرانے ٹھیکیدار کو مزیدایک موقع دیا جانا چاہئے اور پرانی شکایات کا موقع نہ دینے کی تاکید کی جانی چاہئے ۔ اس پر کچھ اراکین نے پھر اعتراض جتایا، میونسپل کونسلر پاسکل گومس نے بتایا کہ جب متعلقہ ٹھیکیدار کو ایک بلب لگانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ صدر کو خبر کرنے اور اُس سے پوچھنے کی بات کرتا ہے، پھر ایسے ٹھیکیدار کو مزید موقع دینا مناسب نہیں ہے، جواب دیتے ہوئے پرویز قاسمجی نے بتایا کہ اگر ٹھیکیدار بلب لگانے اور سوئچ لگانے جیسے معمولی کام کےلئے صدر کو پوچھنے یا صدر کو خبر کرنے کی بات کرتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس سے صدر اور میونسپالٹی کا نام خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرویز قاسمجی نے کہا کہ جب ایک کمپنی کو کام کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے تو پھر معمولی کاموں کے لئے صدر کی اجازت لینے یا صدر کو خبر کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس لئے واپس اُسی ٹھیکہ دار کو مزید موقع دینا درست نہیں ہوگا۔ مگر آخر میں دیگر کونسلروں کی ایماء پر صدر پرویز قاسمجی نے کہا کہ ٹینڈر کے اصولوں کے مطابق وہ ٹھیکیدار اس ٹینڈر کو پانے کا اہل نہیں ہے پھر بھی انہیں مزید دو مہینے کی مہلت دیں گے ۔ ان دو مہینوں میں پھر سے شکایت موصول ہوئیں تو پھر اگلا فیصلہ کیا جائے گا۔ میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین اِمشاد مختصر، انچارج چیف آفسر دیانند دیسائی، ہیلتھ آفسر سُوجیا سومن و دیگر کونسلرس موجود تھے۔