بھٹکل 8 جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل میں جمعرات سے جاری بارش رات میں اچانک تیز ہوگئی اور آدھی رات کے بعد صبح تک بھٹکل میں زبردست بارش ہوئی۔ جس کے نتیجے میں آدھا بھٹکل پانی میں ڈوب گیا۔ندی اور نالے بھرکر بہنے کے ساتھ ساتھ کئی علاقے بھی تالاب میں تبدیل ہوگئے۔ رات کو ہوئی زبردست بارش کے بعد رات تین بجے سے پہاڑو ں کا پانی ندیوں میں جمع ہونا شروع ہوگیا جس کے ساتھ ہی ندیوں میں طغیانی آگئی اور ندی کنارے بسنے والوں کے لئے رات کی نیند حرام ہوگئی۔
مُنڈلی، چوتنی، مٹھلی، تلاند ، گلمی ، بینگرے، شرالی، بیلور، مرڈیشور، ماولّی سمیت کافی دیگر علاقوں میں بھی گھروں کے اندر پانی داخل ہونے سے عوام کو پوری رات جاگ کر گذارنی پڑی۔ بالخصوص چوتنی ندی کے کنارے رہنے والوں کے لئے رات بے حد خوف میں گذری کیونکہ ندی کا پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی پانی کی سطح بڑھنے لگی تھی، لیکن صبح نو بجے کے بعد جب پانی اُترنے لگا تو عوام کو تھوڑا سکون ملا۔ گھروں کے اندر پانی داخل ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے، فرنیچرس سمیت کافی چیزیں خراب ہوگئی۔گھروں کے ساتھ ساتھ کئی دکانوں میں بھی پانی گھس جانے سے کافی نقصان ہوا ہے۔
بھٹکل میں ریکارڈ بارش: جمعرات صبح آٹھ بجے سے جمعہ صبح آٹھ بجے تک بھٹکل میں ریکارڈ توڑ بارش ہوئی اور اس بار کے مانسون کی سب سے زیادہ بارش درج ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اِن 24 گھنٹوں میں بھٹکل میں 218 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔
لوگ رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور: بھاری بارش کو دیکھتے ہوئے سمندر کنارے اور ندی کنارے رہنے والے کئی لوگوں کو اپنا گھربار چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں جاکر پناہ لینی پڑی۔ البتہ چوتنی ندی کنارے رہنے والے مکانوں میں بھاری مقدار میں پانی داخل ہونے کے باوجود مکین اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہوئے، یہاں کے مکینوں نے بتایا کہ ہر سال چوتنی ندی میں طغیانی آنے پر پانی گھروں میں داخل ہوتا ہے، یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے، البتہ پانی کی سطح بڑھنے لگتی ہے تو کچھ وقت کے لئے خوف بھی محسوس ہوتا ہے، مگر کیا کریں، ہم کہاں جائیں، ہم یہیں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بھٹکل کے سماجی اداروں سے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے کسی محفوظ مقام پر مکان تعمیر کرکے ان کی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹکل سے باہر اور ریاست سے باہر اگر کہیں بارش یا سماوی آفات آتی ہے تو بھٹکل تنظیم کا ایک وفد متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتا ہے اور گلف کی مختلف جماعتوں کے تعاون سے متاثرہ لوگوں کو مکانات بھی تعمیر کرکے دئے جاتے ہیں، حالانکہ مدد کے سب سے پہلے حقدار بھٹکل کے غریب عوام ہیں۔
کھیت ندی میں تبدیل، فصلیں بہہ گئیں: تعلقہ کے جن جن علاقوں میں کھیتی باڑی کا کام ہورہا تھا، تمام کھیتوں میں پانی جمع ہوجانے سے پوری فصل برباد ہوگئی ہے اور فصل ا ور بوئے گئے بیج پانی کے ساتھ بہہ گئے ہیں۔ بالخصوص بینگرے کے ششی ہتھل میں فصل پانی کے ساتھ بہہ جانے سے کسانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کسان اب اس بات کو لے کر بھی پریشان ہیں کہ ان کے کھیت جو ندی میں تبدیل ہوگئے ہیں، یہاں کا پانی خالی کب اور کیسے ہوگا۔
چوتنی اور منڈلی کا رابطہ منقطع: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو ہوئی زبردست بارش سے کئی گھنٹوں کے لئے چوتنی اور منڈلی کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ کیونکہ قریب سے گذرنے والی ندی کے پانی کی سطح اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ بریج کے اوپر روڈ پرسے پانی بہنے لگا تھا اور پانی کا بہاو بھی کافی تیز تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا راستہ بند ہوگیا۔ مگر صبح نو بجے کے بعد پانی اُترنے لگا جس سے عوام نے راحت کی سانس لی۔
کُدرے بِیرپا مندر کے اندر بھی پانی داخل: چوتنی ندی میں طغیانی آنے کے ساتھ ہی ایک طرف ندی کنارے واقع مکانات میں پانی داخل ہوگیا وہیں مُنڈلی روڈ پر واقع کُدرے بیرپّا مندر کے اندر بھی پانی داخل ہوگیا، اس کے ساتھ ساتھ مندر کے پیچھے والے سڑک پوری طرح پانی میں ڈٖوب گئی، جبکہ منڈلی جانے والے راستے پر بھی ندی کا پانی اُبل پڑنے سے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں دشواری پیش آئی۔
گلمی میں گھروں کے اندر پانی: رات کو ہوئی زبردست بارش کے نتیجے میں بلال کھنڈ اور ابوذر کالونی میں بھی کئی گھروں کے اندر پانی داخل ہونے سے لوگ رات بھر نہیں سوسکے۔ یہاں مکانات حالانکہ اونچائی پر اور پہاڑی پر واقع ہیں، مگر بتایا گیا ہے کہ جھریوں سے پانی گھروں کے اندر داخل ہوااور جمعہ کو بھی پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کا سلسلہ جاری رہا لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جتنی بار گھروں سے پانی خالی کرنے کی کوشش کی ، واپس پانی آتا گیا، جس کی وجہ سے لوگ رات بھر نہیں سوسکے۔
بینک کی خدمات معطل: بھاری بارش کی وجہ سے شرالی میں واقع کینرا بینک برانچ میں بھی پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے جمعہ کو بینک کا تمام کام ٹھپ پڑ گیا اور سروس معطل کرنی پڑی۔
شرالی نیشنل ہائی وے پر صبح سے شام تک کثیر مقدار میں پانی جمع ہوجانے سے ٹریفک نظام میں خلل پیدا ہوگیا تو وہیں شام کو بھٹکل رنگین کٹہ نیشنل ہائی وے پر بھی پانی بھاری مقدار میں جمع ہوجانے سے ٹریفک نظام متاثر رہا۔
سرپن کٹہ میں چٹان کھسک گئی: شدید بارش کے چلتے سرپن کٹہ نیشنل ہائی وے پر پہاڑی کی چٹان کھسک کر سڑک کنارے گرگئی ، مگر ہائی وے کا تعمیراتی کام کرنے والی آئی آر بی کمپنی کے اہلکاروں نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر سڑک کنارے سے چٹان کو ہٹادیا۔ سمجھا جارہاہے کہ بارش کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو پہاڑی سے مٹی کے تودے سڑک پر گرسکتے ہیں، جس سے سواروں کو پریشانی ہوسکتی ہے۔
شرالی میں مکان پر درخت گرنے سے نقصان: شرالی کے مٹّی گُنڈی علاقہ میں واقع سنپّا نائک کے مکان پر درخت گرنے سے مکان کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ تحصیل کے آفسران نے متاثرہ مکان پر پہنچ کر نقصانات کا جائزہ لیا ہے۔
سنیچر کو بھی زبردست بارش جاری رہنے کی پیش گوئی؛ سنیچر کو بھی ریڈ الرٹ : محکمہ موسمیات نے خبردی ہے کہ جمعہ کی طرح کل سنیچر کو بھی تینوں ساحلی اضلاع میں زبردست بارش ہوگی ، محکمہ نے تینوں اضلاع میں پھر ایک بار ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور لوگوں کو متنبہ کرایا ہے کہ وہ پیشگی حفاظتی انتظامات کریں اور بارش سے ممکنہ طور پر ہونے والے نقصانات کے تعلق سے بیدار رہیں۔
سمندر ی لہروں میں زبردست اُچھال: شدید بارش کے چلتے سمندری لہروں میں زبردست اُچھال دیکھا جارہاہے اور موجیں کافی تیزی کے ساتھ کناروں سے ٹکراتی ہوئی دیکھی گئی ہیں، موجوں میں پائی جانے والی تیزی کی وجہ سے کئی جگہوں پر سمندری کٹاو کے واقعات پیش آئے ہیں اور اونچی اُٹھتی لہروں کو دیکھتے ہوئے سمندر کنارے رہنے والے مکینوں کے لئے رات کے اوقات میں سونا ناگزیر ہوگیا ہے۔ سمندر کنارے رہنے والوں نے بتایا کہ جمعرات کو انہوں نے جاگ کر رات گذاری ہے۔ اب جبکہ بارش کا سلسلہ مزید جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور سنیچر کو بھی ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے، سمندر کنارے سمیت ندی کنارے رہنے والے جمعہ اورسنیچر کی درمیانی رات بھی جاگ کر گذارنے پر مجبور ہوں گے۔
ماہی گیر پریشان؛ مچھلیوں کا شکار بند: بھٹکل سمیت تینوں ساحلی اضلاع میں جمعہ کے ساتھ سنیچر کو بھی بھاری بارش کی پیش گوئی کئے جانے اور ریڈ الرٹ ڈکلیر کئے جانے کے بعد ماہی گیروں نے اپنی کشتیاں سمندر سے باہر نکال کر رکھی ہیں، بوٹ پر مچھلیوں کا شکار پہلے ہی بند تھا، البتہ ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے مچھلیوں کا شکار کرنے سمندر میں نکل پڑتے تھے، مگر اب سمندری موجوں میں اتنی زیادہ اُچھال پائی جارہی ہے کہ ماہی گیروں کو مچھلیوں کے شکا ر کے لئے سمندر میں اُترنا محال ہوگیا ہے۔