بھٹکل 9 جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل میں موسلادھار بارش کے چلتے کوپّا قصبہ کے ہیگّدّے نامی مقام پر پہاڑی چٹان کھسک کر سڑک پر گرنے سے علاقہ کے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں یہاں مزید پہاڑی چٹانیں یا پہاڑ پر سے مٹی کا ملبہ نیچے گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ پنچایت کی طرف سے یہاں کے لوگوں کو ہنگامی طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جمعرات کی رات سے لے کر جمعہ کو جس طرح کی زبردست بارش بھٹکل میں دیکھی گئی تھی، اب اُس شدت کی بارش شہر میں نہیں ہے، البتہ بھٹکل اور ساحلی اضلاع میں سنیچر سمیت اتوار اور پیر کو بھی بھاری برسات ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور یہاں ابھی بھی ریڈ الرٹ کا اعلامیہ جاری ہے۔
جمعرات سے جمعہ صبح آٹھ بجے تک بھٹکل تعلقہ میں سب سے زیادہ 218 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ جمعہ صبح آٹھ بجے سے سنیچر صبح آٹھ بجے تک بارش میں کافی کمی دیکھی گئی اور بارش کی پیمائش 120 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔ اس کے ساتھ ہی بھٹکل میں جملہ بارش 2122.20 ملی میٹر درج ہوئی ہے۔
بھٹکل میں جمعرات اور جمعہ کو ہوئی بارش کے دوران تعلقہ کے مختلف قصبوں میں واقع کھیتوں میں مٹی ، کیچڑ اور کچروں کے ڈھیر کے ساتھ پانی جمع ہوجانے سے کسان پریشان ہیں۔ تعلقہ کے بینگرے، شرالی، وینکٹا پور، کوٹے باگل، نیرکانتھا، سونارکیری، مٹھلی، تلاند سمیت کئی کھیتوں میں کیچڑ، پتھر اور کچرا داخل ہونے کی شکایتیں ملی ہیں، اور آج بارش میں تھوڑی کمی پائی جانے کے بعد کسان اپنے کھیتوں کی صفائی کی کوشش میں لگ گئے۔
پتہ چلا ہے کہ بعض مقامات پر ندی اور نالوں کی دیوار ٹوٹ گئی ہے اور ندی اور نالوں کے ذریعے پانی زرعی زمینوں میں داخل ہو گیا ہے اور کسان ٹوٹی ہوئی دیوار کی مرمت کا کام بھی کرنے میں لگ گئے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ محکمہ زراعت کے افسران اور پنچایت کے اہلکار نقصان کے مشترکہ سروے میں لگے ہوئے ہیں۔
تعلقہ کے دیہی علاقوں میں کئی سڑکیں بھی بہہ گئی ہیں۔ یہاں تک کہ بھٹکل ٹاؤن علاقہ میں بھی کئی علاقوں میں نالیاں کچروں سے بھری ہوئی ہیں اور نالوں کی صفائی نہ ہونے سے سڑکوں یہاں تک کہ گھروں کے اندر بھی پانی داخل ہورہا ہے۔
اس تعلق سے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل تحصیلدار ڈاکٹر سومنت نے بتایا کہ بارش سے ہوئے نقصانات کے سروے کا کام جاری ہے، مکان، سڑک، زرعی زمین ، جہاں جہاں بھی نقصانات ہوئے ہیں، اُس کی رپورٹ تیار کرکے جلد سے جلد حکومت کو پیش کی جائے گی۔