ڈھاکہ،19؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بنگلہ دیش میں کیے گئے ایک ناکام خود کش بم حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی ہے جبکہ ہفتہ اٹھارہ مارچ کو بھی سکیورٹی فورسز نے ایک ایسے حملہ آور کو گولی مار دی، جس نے اپنے جسم پر بم باندھے ہوئے تھے۔مصری دارالحکومت قاہرہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے آج ہفتے کے روز اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ایلیٹ پولیس فورس آر اے بی کے دستوں پر جمعے کے دن جو ناکام خود کش بم حملہ کیا گیا تھا، وہ داعش کے ایک جنگجو نے کیاتھا۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ داعش نے ’البیان‘ نامی ریڈیو بلیٹن میں آج دعویٰ کیا کہ ڈھاکا میں ریپڈ ایکشن بٹالین کے دستوں کے ایک کیمپ پر سترہ مارچ کو کیا جانیو الا بم دھماکا داعش کے ایک ایسے حملہ آور نے کیا تھا، جس نے ایک بارودی جیکٹ پہن رکھی تھی۔اس حملے میں،جو بظاہر ناکام رہا تھا، صرف دو افراد زخمی ہوئے تھے اور یہ حالیہ برسوں میں ان سکیورٹی دستوں پر کیا جانے والا پہلا خود کش حملہ تھا، جو اس جنوبی ایشیائی ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اول نمبر کی ریاستی فورس سمجھے جاتے ہیں۔کل جمعے کے روز کیے جانے والے اس حملے سے قبل تک ملکی دستے متعددشہروں میں مشتبہ دہشت گردوں کے کئی مبینہ ٹھکانوں پر چھاپے مار چکے تھے اور ڈھاکا میں RAB کے کیمپ پر حملہ انہی کارروائیوں کا ردعمل تھا۔بنگلہ دیشی سکیورٹی فورسز نے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف اپنے آپریشن کا آغاز گزشتہ برس جولائی میں ڈھاکا میں ایک مشہور کیفے پر کیے جانے والے اس دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع کیا تھا، جس میں کم از کم 22 افراد مارے گئے تھے۔ ان ہلاک شدگان میں سے کم از کم 18 غیر ملکی تھے اور اس حملے کی ذمید اری بھی داعش نے قبول کر لی تھی۔ڈھاکا سے آمدہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیش میں آج ہفتے کے روز بھی ایک خود کش حملہ آور نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والی ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جو ناکام بنا دی گئی۔آج پیش آنے والے اس واقعے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار ایک عسکریت پسند نے ملکی دارالحکومت کے ایک علاقے میں آر اے بی کی ایک چیک پوائنٹ پر خود کش دھماکا کرنے کی کوشش تو کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔حکام کے مطابق ہفتے کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں اس مشتبہ شدت پسند نے زبردستی یہ چیک پوائنٹ پار کرنے کی کوشش کی، جس پر وہاں موجود سکیورٹی دستوں نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔ ریپڈ ایکشن بٹالین کے میڈیا سے متعلق شعبے کے سربراہ مفتی محمود خان نے روئٹرز کو بتایا، ’’یہ ایک خود کش بم حملے کی کوشش تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اس شدت پسند کے جسم سے کئی بم بندھے ہوئے تھے۔‘‘مفتی محمودخان نے یہ بھی بتایاکہ اس واقعے میں پولیس کے دو افسران زخمی بھی ہو گئے۔ یہ نہیں بتایاگیاکہ اگرموٹرسائیکل پر سوار مبینہ خود کش حملہ آورکوچیک پوائنٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی گولی مار دی گئی تھی، تویہ دونوں افسران زخمی کیسے ہوئے۔روئٹرز کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں ڈھاکا کے کیفے پر ہلاک خیز دہشت گردانہ حملے کے بعدسے پولیس پورے ملک میں اب تک 50 سے زائد مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ ان میں ڈھاکا میں کیفے پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بنگلہ دیشی نڑاد کینیڈین شہری تمیم احمد چوہدری بھی شامل تھا۔