ڈھاکہ ،19؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم حرکت الجہاد کے سابق سربراہ مفتی حنان کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل مسترد کر دی ہے۔ اب حنان کو پھانسی دیے جانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکاسے اتوار انیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق حرکت الجہاد نامی عسکریت پسند تنظیم کو ملکی حکومت نے 2005ء میں ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اس شدت پسند گروہ کے سابق سربراہ مفتی حنان کو موت کی سزا 2004ء میں بنگلہ دیش میں اس وقت کے برطانوی ہائی کمشنر پر کیے جانے والے ایک دستی بم حملے کے جرم میں سنائی گئی تھی۔مفتی حنان اپنی گرفتاری کے وقت حرکت الجہاد کا سربراہ تھا اور برطانوی سفیر پر گرینیڈ حملے کے جرم میں اسے اور اس کے دوقریبی ساتھیوں کو ایک ملکی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ ڈھاکا میں بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی اپیل بینچ نے اتوار انیس مارچ کو مفتی حنان اور اس کے دو ساتھیوں کی طرف سے دائر کردہ سزائے موت کے خلاف جو اپیل مسترد کر دی، اس کے بعد اب ان تینوں عسکریت پسندوں کو پھانسی دیے جانے کی راہ میں مزید کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ایک ایسی اپیل پر سنایا، جو گزشتہ دسمبر میں ہائی کورٹ کی طرف سے ملزمان کے لیے موت کی سزاؤں کی تصدیق کے بعد ملک کی اس اعلیٰ ترین عدالت میں دائر کی گئی تھی۔مفتی حنان اور اس کے دونوں ساتھی اب بنگلہ دیشی صدر کو رحم کی اپیل کر سکتے ہیں لیکن اس بات کا امکان بھی بہت کم ہے کہ صدر اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیں گے اور وہ سزائے موت سے بچ جائیں گے۔حرکت الجہاد نامی ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم کے ان تین سرکردہ رہنماؤں کو پہلی مرتبہ سزائے موت 2008ء میں سنائی گئی تھی۔ اس کا سبب اس حملے کی منصوبہ بندی بنی تھی، جس میں 2004ء میں ڈھاکا میں تعینات برطانوی سفیر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔بنگلہ دیش ہی میں پیدا ہونے والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں تعینات اس دور کے برطانوی سفیر انور چوہدری اس حملے کے وقت شمالی مشرقی شہر سلہٹ میں قریب 700 برس پرانے ایک مشہور مزار پر فاتحہ پڑھنے کے لیے گئے ہوئے تھے، جب ان پر ایک دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا۔اس حملے میں انور چوہدری خود تو محفوظ رہے تھے تاہم ڈیوٹی پر موجود تین پولیس اہلکار اس دھماکے میں مارے گئے تھے جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اسی حملے کے سلسلے میں ایک عدالت نے 2008ء میں مفتی حنان کے دو دیگر ساتھیوں کو عمر قید کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔حرکت الجہاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم افغانستان میں سوویت فوجی دستوں کے خلاف لڑائی کے بعد وطن واپس لوٹنے والے بنگلہ دیشی عسکریت پسندوں نے 1992ء میں قائم کی تھی اور مفتی حنان اس گروہ کا سربراہ 1990ء کی دہائی کے آخری سالوں میں بنا تھا۔برطانوی سفیر پر حملے کے علاوہ 2001ء میں کیے گئے ایک دوسرے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں بھی حنان کو ایک عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ تب یہ حملہ سال نو کی خوشی کی تقریبات کے موقع پر کیا گیا تھا اور اس میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔