بنگلورو ، 7؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بنگلور وٹیسٹ میں ٹیم انڈیا نے 75رنز سے کامیابی حاصل کر کے کمال کر دیا۔میچ کے پہلے دو دن بیک فٹ پر رہنے کے بعد ٹیم انڈیا نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔میچ کے تیسرے دن کے آخری سیشن میں ہندوستان نے پجارا اور اجنکیا رہانے کی بلے بازی کی بدولت آسٹریلیا پر دباؤ بنایا اور چوتھے دن گیند بازوں نے کمال کرتے ہوئے ٹیم کو جیت دلادی ۔میچ میں آسٹریلیا کی دوسری اننگ محض 112رنوں پر ہی سمٹ گئی۔پہلی اننگ میں آسٹریلیا کی اننگ 276رن پر سمٹ گئی تھی، آسٹریلیا کو اتنے کم اسکور پر سمیٹنے میں بائیں ہاتھ کے لیگ اسپنر رویندر جڈیجہ کا اہم رول رہا ۔جڈیجہ نے اننگ میں محض 63رن دے کر چھ وکٹ لیا جو کہ ان کے کیریئر کی دوسری بہترین کارکردگی رہی ۔ خاص بات یہ رہی کہ اس دوران جڈیجہ نے اننگ کے چاروں ریگولر گیندبازوں میں سب سے کم اوور پھینکے، انہوں نے 21.4اورروں میں یہ کامیابی حاصل کی ، یہاں تک کہ تیز گیند بازوں ایشانت شرما اور امیش یادو نے بھی پہلی اننگ میں ان سے زیادہ اوور پھینکے تھے۔حالانکہ پہلی اننگ میں ٹیم انڈیا کے سب سے کامیاب گیندباز رہے جڈیجہ کو کم اوور دئیے جانے کو لے کر سوال بھی اٹھے تھے۔حیرت کی بات آسٹریلیا کی دوسری اننگ میں بھی کپتان وراٹ کوہلی نے انہیں 13ویں اوور میں ہی گیندبازی اٹیک پر لگایا۔جڈیجہ نے دوسری اننگ میں بھی ایک وکٹ حاصل کیا ۔آسٹریلیائی ٹیم کے سلامی بلے باز ڈیوڈ وارنر کی طرف سے حال ہی میں وراٹ کوہلی کو چھوڑ کر ٹیم انڈیا کے بہترین بلے باز کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو ان کا جواب تھاکہ کے ایل راہل۔ بنگلور ٹیسٹ میں اپنی کارکردگی سے راہل نے وارنر کے دعوی کو سچ ثابت کر دیا۔دونوں اننگ میں انہوں نے نصف سنچری اسکور کی ،پہلی اننگ میں تو ٹیم انڈیا کے 189رنوں میں سے تقریبا نصف (90)رن انہوں نے اکیلے بنائے۔دوسری اننگ میں بھی راہل نے 51رن بنایا ۔راہل کے کھیل میں اب کھٹکنے والی بات یہی لگتی ہے کہ وہ خطرناک شاٹس کھیلتے ہیں ، اس کمی کو دور کر کے کرناٹک کا یہ کرکٹر اور بہتر بلے باز بن کر ابھر سکتا ہے، راہل کو ان کی شاندار کارکردگی کے لیے مین آف دی میچ منتخب کیا گیا ۔
دوسری اننگ میں ٹیم انڈیا کو 274رنوں کے اسکور تک پہنچا کر میچ میں واپس لانے میں چتیشور پجارا کا سب سے اہم کردار رہا۔سوراشٹر کے اس بلے باز نے اجنکیا رہانے کے ساتھ تیسرے دن کھیل کے آخری سیشن نے کنگارو گیند بازوں کو کامیابی سے محروم رکھا، شروعاتی مشکلات سے باہر آتے ہوئے انہوں نے اپنی اننگ کو اچھی طرح سنوارا۔پجارا سنچری مکمل نہیں کر سکے لیکن انہوں نے 92رن بنا کر بنگلور کی مشکل وکٹ پر اپنے کلاس کا شاندار مظاہرہ کیا ۔پجارا نے رہانے کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 118رنوں کی شراکت کیا جو گیند بازوں کے غلبہ والی موجودہ سیریز کی واحد سنچری شراکت ہے۔ممبئی کے بلے باز اجنکیا رہانے اس وقت بلے سے اچھی کارکردگی نہیں کر پا رہے تھے، ایسے میں ٹرپل سنچری بنانے والے کر ون نائر کو جگہ دینے کے لیے ان کی جگہ پر خطرہ مسلسل منڈلا رہا تھا، لیکن کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ انیل کمبلے نے اجنکیا پر اعتماد کیا ۔ان دونوں کی دلیل تھی کہ کرون کی ٹرپل سنچری کی وجہ سے اجنکیا کی دو سال کی محنت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بنگلہ دیش کے خلاف واحد ٹیسٹ اور آسٹریلیا کے خلاف اب تک کے دونوں ٹیسٹ میں ان کو الیون میں موقع ملا۔ٹیم انڈیا کی دوسری اننگ یں رہانے نے 52رنوں کی شاندار اننگ کھیلی۔پہلی اننگ میں اگر رویندر جڈیجہ نے چھ وکٹ لئے تھے تو دوسری اننگ میں آف اسپنر روی چندرن اشون نے چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ۔انہوں نے آسٹریلیا کی دوسری اننگ میں 41رن دے کر چھ وکٹ لیا ، پہلی اننگ میں بھی اشون دو وکٹ لینے میں کامیاب رہے تھے۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ اشون نے ایسے وقت میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب ٹیم انڈیا کو سیریز میں برابری کرنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔تیز گیند باز امیش یادو کو کچھ وقت پہلے تک ایسا گیندباز سمجھا جا تا تھا جو رفتار اور سوئنگ کے باوجود اپنی صلاحیت سے انصاف نہیں کر پایا، لیکن نیوزی لینڈ، انگلینڈ، بنگلہ دیش اور اب آسٹریلیا کے خلاف وہ کپتان کوہلی کے لیے نمبر ون تیزگیندباز ثابت ہو رہے ہیں۔بنگلور ٹیسٹ میں امیش کی شاندار گیندبازی کا انداز ان کے وکٹ کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔امیش نے بھلے ہی پہلی اننگ میں ایک اور دوسری اننگ میں دو وکٹ لیا ، لیکن اپنی گیندوں کی رفتار اور سوئنگ سے وہ مخالف ٹیم کے بلے بازوں کے لیے پریشانی کا سبب بنے رہے۔دوسری اننگ میں آسٹریلیائی کپتان اسٹیو ا سمتھ کا وکٹ انہوں نے ہی لیا۔