بنگلورو،21/مئی(ایس او نیوز) کووڈ کی وجہ سے گزشتہ 3سال سنسان نظر آنے والے مشہور لال باغ کی رونق دوبارہ لوٹ آئی ہے اور صرف45دنوں میں 2.50لاکھ سے زیادہ افراد نے لال باغ کا دورہ کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے امسال موسم گرما میں شہر کے لال باغ کا دورہ کرنے والوں کی تعداد میں 45فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2020-21کے دوران کووڈ کی وجہ سے لال باغ کا نظارہ کرنے والوں کی تعداد کافی کم ہو گئی تھی،لیکن گزشتہ سال یوم آزادی اور2023کے یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقد فلاور شو کا نظارہ کرنے بڑی تعداد میں عوام لال باغ پہنچے،لیکن عام دنوں میں حسب توقع افراد حاضرنہیں رہے۔تاہم اسکول کالجوں میں امتحانات کے اختتام کے بعد چھٹیاں شروع ہوتے ہی دوبارہ عوام نے لال باغ کا رخ کیا، بچوں سے لے کر بزرگوں نے نظارہ کیا۔
محکمہ باغبانی کی اطلاع کے مطابق یکم اپریل سے ابتک لال باغ کا2.50لاکھ سے زیادہ افراد نے دورہ کیا ہے،بنگلور سمیت ریاست،بیرونی ریاستوں اور بیرونی ممالک سے سیاح پہنچ رہے ہیں۔لال باغ آنے والوں کی سہولت کے لئے عمر والوں کے لئے داخلہ فیس 30روپئے اور6سال سے زیادہ عمر والوں کے لئے10روپئے مقرر کی گئی ہے،جبکہ6سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ مفت ہے، اسکول بچوں اور معذورین کے لئے دن بھر داخلہ مفت ہے جبکہ مقامی افراد سمیت دیگر چہل قدمی کرنے والوں کو صبح6تا9بجے اور شام6تا7بجے داخلہ مفت ہے۔
ذرائع کے مطابق بزرگوں،بچوں اور معذورین کے لئے لال باغ کے اطراف الیکٹرک موٹار وھیکل کی سہولت ہے۔ ایک راونڈ کے لے 100 روپئے ٹکٹ مقرر کی گئی ہے۔ یہ گاڑی لال باغ پہاڑ کے قریب سے نکل کرگلاس ہاؤز،روزگار ڈن، کیدیکے پارک،لال باغ تالاب ودیگر علاقوں سے ہوتے ہو ئے لال باغ پہاڑ واپس آئے گی۔تقریباً240ایکٹر علاقہ پر مشتمل لال باغ کی ایک تاریخ ہے،لال باغ میں تقریباًکئی سالہ قدیم پتھر ہے، افغانستان، فرانس ودیگر ممالک سے لائے گئے پھول،پودے موجود ہیں،ایک ہزار سے زیادہ مختلف اقسام کے پودے،100 تا150سالہ قدیم درخت، گلاس ہاؤز،کیمپے گوڈا کا مجسمہ،نیا گر فالس کی مانند مصنوعی فالس اور گارڈن، بونسائی پاک و غیر قابل دید اہم مقامات ہیں۔