بنگلورو،27؍نومبر(ایس او نیوز) بنگلورو اپارٹمنٹس فیڈریشن (بی اے ایف) نے اگلے ماہ دسمبر کی دو تاریخ کو شہر میں ایک خاموش احتجاجی ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، تاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے اپارٹمنٹوں پر عائد کئے جانے والے ناقابل عمل قوانین اور بنگلور پانی کی سربراہی اور فضلات کی نکاسی بورڈ (بی ڈبلیو ایس ایس بی) اور کرناٹک ریاستی آلودگی پر قابو بورڈ (کے ایس پی سی بی) کی طرف سے پانی اور بجلی کی سربراہی روک دینے سے متعلق بار بار کی دھمکیوں کی مذمت کی جائے۔مذکورہ فیڈریشن نے بی ڈبلیو ایس ایس بی اور کے ایس پی سی بی کی طرف سے شہر کی قدیم اپارٹمنٹ عمارتوں میں گندے پانی کی صفائی کے آلات (ایس ٹی پی یونٹس) کی تنصیب اور فاضل پانی کو مناسب انداز میں صفائی کے بعد استعمال نہ کئے جانے سے متعلق بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی سے متعلق جاری کر دہ نوٹسوں پر اپنا اعتراض جتایا ہے ۔بی ڈبلیو ایس ایس بی کی طرف سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق ایسے تمام پرانے اپارٹمنٹ جہاں پچاس یا اس سے زیادہ مکانات موجود ہیں ان کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ اپنے یہاں ایس ٹی پی یونٹس نصب کریں اور ان کے علاوہ نئے تعمیر ہونے والے تمام اپارٹمنٹ جس میں بیس یا اس سے زیادہ مکان ہو ں اور جن کی تعمیر کے لئے مارچ 2016 کے بعد عدم اعتراض کے تصدیق نامے حاصل ہوئے ہیں ان سب کو بھی اپنے یہاں ایس ٹی پی یونٹس کا نصب کرنا ضروری ہوگا۔فیڈریشن نے اس مسئلہ کو بھی اٹھایا ہے کہ بی ڈبلیو ایس ایس بی اپارٹمنٹوں میں رہنے والوں سے عام اور انفرادی مکانات کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ رقم پانی کی سربراہی کے لئے وصول کرتا ہے۔بی اے ایف کے جنرل سکریٹری سریکانت نراسمہن کا کہنا ہے کہ پرانی اپاٹمنٹ عمارتوں میں ایس ٹی پی کی تعمیر کا ضابطہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، اس لئے کہ ان عمارتوں میں ایس ٹی پی کی تنصیب کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ عمارتیں ہی بیٹھ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ’’پرانی اپارٹمنٹ عمارتوں میں ایس ٹی پی کے آلات کو نصب کرنے کا مطالبہ بالکل نامناسب ہے اس لئے کہ یہ عمارتیں شروع ہی سے اپنے یہاں کا فاضل پانی اور فضلات کو انہی زیر زمین نالیوں میں بہاتی آئی ہیں۔بی ڈبلیو ایس ایس بی نے اس ضابطہ کو بیلندور تالاب کی صورت حال کے سلسلہ میں قومی سبز ٹریبونل کی طرف سے کھنچائی کئے جانے کے بعد بنایا ہے۔دراصل بی بی ایم پی خود اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے اپارٹمنٹوں پر الزامات عائد کر رہا ہے، پہلے وہ تالابوں کے تحفظ کے لئے بالکل فکر مند نہیں تھے اور اب حال ہی میں انہوں نے جگہ جگہ ایس ٹی پی آلات تعمیر کرنے کا کام شروع کیا ہے‘‘۔لیکن بی ڈبلیو ایس ایس بی کے چیر مین تشار گریناتھ کا کہنا ہے کہ وہ مذکورہ نوٹفکیشن میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں کریں گے اس لئے کہ یہ ایک سرکاری دستاویز ہے اور حکومت کے فیصلہ کے مطابق ہی جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’’فیڈریشن کے اراکین نے ہم سے ملاقات بھی کی تھی اور اب تو یہ معاملہ عدالت کے سامنے زیر غور ہے، کچھ بھی ہو جائے ہم تو اب اس نوٹفکیشن میں کسی طرح کی بھی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں‘‘۔کے ایس پی سی بی کے چیر مین لکشمن کا کہنا ہے کہ بعض اپارٹمنٹوں کے مکینوں نے بی ڈبلیو ایس ایس بی کے افسران سے ملاقات کی تھی اور انہیں بی ڈبلیو ایس ایس بی کے زمین دوز نالوں میں فاضل پانی اور فضلات کو بہانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’کے ایس پی سی بی اور بی ڈبلیو ایسایس بی دونوں ہی اس ماہ کے اواخر میں ان اپارٹمنس کے اراکین کے ساتھ ایک مشترکہ مشاورتی نشست منعقد کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کا کوئی حل نکالا جا سکے‘‘۔