ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / برگشتہ لیڈروں کی بیان بازی پر کانگریس اعلیٰ کمان ناراض سینئر قائدین کو منانے کیلئے ریاستی قائدین کو مرکز سے ہدایت

برگشتہ لیڈروں کی بیان بازی پر کانگریس اعلیٰ کمان ناراض سینئر قائدین کو منانے کیلئے ریاستی قائدین کو مرکز سے ہدایت

Wed, 01 Mar 2017 21:07:20    S.O. News Service

بنگلورو۔یکم مارچ(ایس او نیوز) کانگریس قیادت کے خلاف بارہا نکتہ چینی کرنے والے پارٹی کے برگشتہ قائدین پر پارٹی کی مرکزی قیادت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ یہ لوگ اپنے زبان کو لگام دیں اور من مانے بیانات سے گریز کریں۔ ریاستی حکومت اور کانگریس اعلیٰ کمان کے خلاف بارہا بیان بازیوں کے ذریعہ پارٹی اور حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مبینہ کوششوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹرسے ریاست کے سبھی برگشتہ کانگریس قائدین کو متنبہ کیاگیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بیان بازی سے گریز کریں۔ خاص طور پر گووند راجو کے گھر سے ضبط شدہ ڈائری کو لے کر بی جے پی نے جو ہنگامہ کھڑا کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے کانگریس قیادت نے پارٹی کے سبھی قائدین کو سخت تاکید کی ہے کہ حکومت کا دفاع کریں اور پارٹی قیادت کو اپنے بیانات سے ایسی صورتحال میں مبتلا نہ کریں کہ وہ اپنا دفاع نہ کرسکے۔ ایک طرف منگلور سے جناردھن پجاری اور دوسری طرف میسور سے وشواناتھ کے بیانات کے ساتھ وزیراعلیٰ سدرامیا کے خلاف سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر سی کے جعفر شریف کی طرف سے بارہا کی جارہی نکتہ چینیوں پر بھی اعلیٰ کمان نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ کے پی سی سی سے اگر ان لوگوں کو کوئی شکایت ہے تو راست طور پر اس کی اطلاع پارٹی اعلیٰ کمان کو اے آئی سی سی دفتر پہنچ کر دیں۔اس سلسلے میں کسی طرح کی بیان بازی کی ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی اعلیٰ کمان نے کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کو بھی ہدایت دی ہے کہ ان تمام لیڈروں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے فوراً ان سے بات چیت کی جائے۔ راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے اس سلسلے میں جناردھن پجاری اور جعفر شریف سے بات چیت کی ہے، اور کہا ہے کہ 2018کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو کامیاب بنانا قومی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسی لئے سینئر لیڈران اپنے اختلافات کو فراموش کرکے پارٹی کو اقتدار پر لانے کی طرف توجہ دیں۔ کوئی بھی مسئلہ ہوتو فوری طور پر صدر کانگریس سونیا گاندھی یا ان کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے رابطہ کرکے اس کی شکایت کریں۔ وشواناتھ سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری احمد پٹیل نے وزیراعلیٰ سدرامیا کو دی ہے۔ یاد رہے کہ سدرامیا کو کانگریس میں لانے میں ایچ وشواناتھ نے کلیدی رول ادا کیا تھا ، اسی لئے انہیں منانے کی ذمہ داری بھی اعلیٰ کمان نے سدرامیا کو ہی سونپی ہے۔


Share: