بنگلورو، 27/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر پابندی کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بی جے پی کے سینئر لیڈر اور کرناٹک کے سابق وزیر آر اشوک نے ریاست میں نئی بننے والی کانگریس حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کانگریس میں ہمت ہے تو آر ایس ایس کی کسی ایک شاخ پر بھی پابندی عائد کرکے دکھائے۔
سوشیل میڈیا پر وائرل کابینی وزیر پریانک کھرگے کی بجرنگ دل اور اس جیسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے والی وڈیو پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اشوک نے کہا: "آپ کے والد آر ایس ایس پر پابندی لگانے میں ناکام ہوچکے ہیں، آپ کے پردادا بھی کچھ نہیں کر سکے تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں؟ "
اشوک نے کہا کہ کانگریس کو کبھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل تھی اُس وقت 15-20 ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی، اُس وقت پابندی عائد نہیں کرسکی تو آج جبکہ ملک میں کانگریس کی موجودہ حالت قابل رحم ہے، آر ایس ایس یا اس کی کسی تنظیم پر پابندی کیسے عائد کرسکتی ہے۔ اشوک نے کانگریس کو چیلنج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملک بھر میں آر ایس ایس کی لاکھوں شاخائیں کام کر رہی ہیں، کانگریس میں ہمت ہے تو کسی ایک شاخ پر پابندی لگا کر دکھائیں۔
اُدھر دوسری طرف کرناٹک یونٹ کے بی جے پی صدر نلین کمار کٹیل نے کہا کہ اگر آر ایس ایس یا بجرنگ دل پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو "کانگریس حکومت بچ نہیں پائے گی۔
بتاتے چلیں کہ پریانک کھرگے کی ایک وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں ان کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ان کی پارٹی بجرنگ دل پر پابندی لگانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اخلاقی پولیسنگ میں ملوث تنظیموں پر پابندی لگانے میں کسی طرح کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ بھلے ہی وہ آر ایس ایس یا بجرنگ دل یا کوئی اور فرقہ پرست تنظیم ہو۔
کھرگے نے یہ بھی کہا تھا: "ہم بی جے پی حکومت کی طرف سے لائے گئے قوانین کو تبدیل کریں گے۔ اگر کسی فرد یا تنظیم سے امن و امان میں خلل پڑتا ہو اور کوئی آئین کے خلاف کام کرتا ہو، تو حکومت ان کے خلاف مناسب کارروائی کرے گی۔