پٹنہ،27؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن، یعنی پیر کو مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ فوج میں بھرتی کی نئی اسکیم اگنی پتھ کے خلاف اپوزیشن اراکین نے خوب ہنگامہ کیا۔ آر جے ڈی، کانگریس اور بایاں محاذ کے اراکین اسمبلی کے زبردست ہنگامہ کے سبب اسمبلی کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ایوان کے باہر بھی آر جے ڈی، کانگریس اور بایاں محاذ کے اراکین اسمبلی نے الگ الگ مظاہرہ کر فوج بھرتی کی نئی اسکیم کی مخالفت میں زوردار احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی۔ اس دوران اراکین اسمبلی اگنی پتھ کے خلاف نعرے لکھے تختیوں کو ہاتھ میں لہراتے نظر آئے۔
ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی ایوان کے اندر بھی اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے تیور کم نہیں ہوئے اور اگنی پتھ کو لے کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس دوران اسمبلی اسپیکر وجئے کمار سنہا کارروائی چلانے کے لیے تعاون مانگتے ہوئے خاموش ہونے اور اپنی سیٹ پر جانے کی گزارش کرتے رہے، لیکن اپوزیشن پارٹی کے اراکین کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ سبھی لوگ اگنی پتھ منصوبہ کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اراکین اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار اگنی پتھ منصوبہ پر بحث کرائیں اور اسمبلی سے اس اسکیم کو واپس لینے کے مطالبہ کو لے کر تجویز پاس کر مرکزی حکومت کو بھیجا جائے۔ اسپیکر کے سمجھانے کے بعد بھی جب ایوان میں ہنگامہ ہوتا رہا تو اسپیکر نے اسمبلی کی کارروائی کو ملتوی کر دیا۔ سی پی آئی (ایم) رکن اسمبلی امرجیت کشواہا نے اس تعلق سے کہا کہ ’’اگنی پتھ اسکیم طلبا اور ملک کی فوج کے ساتھ دھوکہ ہے۔ پورے ملک کے نوجوانوں میں اس اسکیم کو لے کر غصہ ہے۔ مرکزی حکومت جب تک اس کو واپس نہیں لے گی، تب تک ہم لوگ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔‘‘