بنگلورو،4مارچ(ایس او نیوز) 2017-18 کے بجٹ میں ریاست کی اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف منصوبوں کے اعلان اور بجٹ میں زیادہ سے زیادہ رقم کا تعین کرنے کے علاوہ وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کی حصہ داری یقینی بنانے اور ساتھ ہی اقلیتوں کو حاصل ریزرویشن ان تک مکمل طور پر فراہم کرنے اور بیک لاگ اسامیوں کی بھرتی کے علاوہ ریاست بھر میں اوقافی املاک کے تحفظ وترقی کیلئے زیادہ فنڈز پر زور دینے کیلئے آج وزیر اعلیٰ سدرامیا سے ریاست کے تمام مسلم وزراء ، اراکین پارلیمان واسمبلی اور کونسل کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ سابق مرکزی وزیر ورکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمن خان، ریاستی وزراء وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ ، وزیر برائے شہری رسد وخوراک یوٹی قادر ، وزیر بنیادی وثانوی تعلیمات اقلیتی بہبود واوقاف تنویر سیٹھ، ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین نصیر احمد ، اراکین اسمبلی وکونسل نے وزیراعلیٰ سے ان کی رہائش گاہ کرشنا پر ملاقات کی۔ معتبر ذرائع نے بتایاکہ مسلم قائدین نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو ریاست بھر میں درپیش حالات کے متعلق جانکاری دی اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے موثر اسکیموں پر عمل پیرائی کا مشورہ دیا۔چونکہ سدرامیا کی طرف سے پیش ہونے والا بجٹ غالباً اسمبلی انتخابات سے پہلے آخری ہوگا۔اسی لئے اس بجٹ کے ذریعہ اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے ، یہ یقینی بنانے پر زور دیاگیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں وزیر برائے شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے وزیراعلیٰ سدرامیا کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ریاست کے تمام اضلاع میں اقلیتی آبادی کے اعتبار سے ان کیلئے ایک ہاؤزنگ اسکیم کا اعلان کیا جائے ،تاکہ مختلف سرکاری ہاؤزنگ اسکیموں کے تحت مکانات کی فراہمی کے ساتھ اقلیتوں کیلئے مخصوص مکانات کی تعمیر کے منصوبے کو مختلف اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز یا ہاؤزنگ بورڈ کے ذریعہ آگے بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے اس کیلئے محکمۂ شہری ترقیات میں خصوصی فنڈ کی فراہمی پرزور دیا۔ مسلمانوں کی سماجی بہتری کیلئے حکومت کی طرف سے رائج اسکیموں کو موثر طور پر نافذ کرنے اور ان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سخت اقدامات پر ڈاکٹر کے رحمن خان نے زور دیا۔ تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو ترقی سے ہمکنار کرنے اور ریاست بھر میں اردو اسکولوں کے معیار کو بلند کرنے کے ساتھ اردو اسکولوں میں اساتذہ کی مخلوعہ اسامیوں کو پر کرنے کے علاوہ تمام اردو اسکولوں میں کنڑا اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ضروری قدم اٹھانے پر تنویر سیٹھ نے وزیر اعلیٰ سے پرزور مطالبہ کیا۔ شہر ی رسد نظام کے تحت مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں بی پی ایل راشن کارڈ کی فراہمی اور راشن کی فراہمی کے نظام میں سدھار کے ثمرات اقلیتوں کو فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات پر زور دیا گیا۔تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر میں اوقاف کے تحفظ کیلئے بجٹ میں خصوصی منصوبوں کا اعلان کیا جائے۔شہر بنگلور کے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور نجی فریقوں کی طرف سے بڑی بڑی اوقافی املاک پر ناجائز قبضہ کرلیا گیا ہے، ان قبضہ جات کو ختم کرانے کیلئے ضروری قدم اٹھانے اور اوقاف کے ثانوی سروے کو تیزی سے مکمل کرانے کیلئے محکمۂ اوقاف اور محکمۂ مالگذاری کے درمیان تال میل بڑھانے پر بھی میٹنگ میں زور دیاگیا۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ان تمام کے مطالبات کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ بات دہرائی کہ ریاستی حکومت اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی پابند ہے۔اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے گزشتہ چار سال سے حکومت کی طرف سے ٹھوس قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سماج کے اس کمزور طبقے کو سماجی اور معاشی طور پر آگے بڑھنے کیلئے اور بھی مواقع فراہم کرانے کی حکومت پابند ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم قائدین کی طرف سے اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے افزود فنڈز کے علاوہ نئی نئی اسکیموں کی شروعات کے سلسلے میں جو بھی تجاویز ان کے سامنے رکھی گئی ہیں، ان میں سے جو بھی قابل عمل ہوں ان تمام کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔