بالاسور3 جون (ایس او نیوز) ریاست اڈیشہ کے بالاسور ضلع میں دو ایکسپریس ٹرینوں کے درمیان ہوئی بھیانک ٹکر میں 233 لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر ملی ہے جبکہ 900 سے زیادہ شدید زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ حادثہ جمعہ کی شام قریب سات بجے پیش آیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق تین ٹرینوں کی ٹکر ہوئی ہے جس میں بینگلور-ہاوڑا سوپر فاسٹ ایکسپریس، شالیمار- چینائی سینٹرل کورو منڈل ایکسپریس اور ایک گڈس ٹرین شامل ہے۔
| بنگلورو-ہاؤڑا سپرفاسٹ ایکسپریس، کورومنڈل ایکسپریس اور ایک مال ٹرین کی ٹکر میں پٹری سے اترے ہوئے ڈبوں کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اوڈیشہ حکومت نے ہیلپ لائن 262286 (06782) جاری کی ہے۔ ریلوے ہیلپ لائنز 26382217 (033) (ہاؤڑا)، 8972073925 (کھڑگپور)، 8249591559 (بالاسور) اور 25330952 (044)(چنئی) ہیں۔ |
رپورٹوں کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا۔ جب 12864 (SMVB-HWH) یشونت پور-ہاؤڑا ایکسپریس کی دو بوگیاں بالاسور ضلع کے بہناگا ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئیں۔ جس کے بعد مخالف سمت سے آنے والی تیز رفتار 12841 کورومنڈل ایکسپریس ٹرین ان بوگیوں سے ٹکرا گئیں۔ جس کی وجہ سے تقریباً 17 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق اب تک 207 لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں اور مقامی لوگ پٹری سے اتری ہوئی بوگیوں سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔
کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں ریاستوں کے حکام نے بتایا کہ وہ وہاں ٹرین سانحہ کے بعد اوڈیشہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ میں ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق کورومنڈل ایکسپریس چنئی جا رہی تھی،
جبکہ ہاوڑہ سوپرفاسٹ ایکسپریس بنگلورو سے روانہ ہوئی تھی۔
ساؤتھ ویسٹرن ریلوے (SWR) کے ذرائع کے مطابق، 994 ریزرو مسافر اور تقریباً 300 غیر ریزرو مسافر سر ایم ویسویشورایا ٹرمینل سے بعد میں ٹرین پر سوار ہوئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ شالیمار-چنئی کورومنڈل ایکسپریس، ایک لمبی دوری کی ٹرین ہے جو مغربی بنگال کو تمل ناڈو سے جوڑتی ہے، یہ ٹرین جمعہ کو دن کے اوائل میں شالیمار اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی۔ اس میں زیادہ تر مغربی بنگال کے مسافر سوار تھے جو یا تو کام کے لیے یا صحت کی بہتر سہولیات حاصل کرنے کے لیے تمل ناڈو جاتے ہیں۔
ریل حادثہ کو حالیہ دنوں میں ہونے والا بدترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2013 میں، کورامنڈل ایکسپریس اوڈیشہ کے جاج پور ضلع میں حادثے کا شکار ہوئی تھی جو موجودہ جائے حادثہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔
اگرچہ اوڈیشہ حکومت نے 10 سے زیادہ سینئر سکریٹریوں اور ایک وزیر کی نگرانی میں درجنوں ٹیمیں جائے حادثہ پر روانہ کی ہیں تاہم جائے حادثہ کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں افراتفری پھیل گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے تمام پڑوسی اضلاع کے ساتھ ساتھ پریمیئر میڈیکل کالجوں کے ڈاکٹروں کو بھی متحرک کردیاہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسپتالوں میں ڈاکٹر بحران کو سنبھالتے ہوئے مغلوب دکھائی دے رہے تھے کیونکہ ہر منٹ میں مریض اسپتال پہنچ رہے تھے، ایمبولینسوں کے مسلسل سائرن نے مقامی لوگوں کو رات کو جگائے رکھا تھا جبکہ سینکڑوں مقامی لوگ ریسکیو آپریشن میں کود پڑے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ قریبی دیہات کے لوگ پہلے ریسپونڈر کے طور پر جائے حادثہ کی طرف بھاگے۔ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے اور زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے اسپتالوں میں کافی لوگ قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ شدید زخمی مریضوں کو نکالنے کے لیے 115 سے زیادہ ایمبولینسوں کو خدمات میں لگایا گیا تھا۔
ریاستی حکومت نے ملحقہ اضلاع سے امدادی ٹیموں کو بلایا جبکہ وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے بچاؤ کارروائیوں میں فضائیہ کی مدد کی درخواست کی۔ وزیر ریلوے نے مرنے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے اور شدید زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ پٹنائک نے کہا کہ زخمی مسافروں کی جان بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بالاسور، بھدرک، میور بھنج، جاج پور، کیندرپارہ اور کٹک کے اسپتال کے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام لاشوں کو احترام کے ساتھ رکھا جائے، اور چادروں سے ڈھانپ دیا جائے اور لاشوں کو گھر کے اندر اور باہر کے لوگوں یا جانوروں کی رسائی سے محفوظ رکھا جائے۔