اڈپی ،25؍ ستمبر (ایس او نیوز) انگریزوں کے زمانے میں دلتوں کو قانون ساز اداروں میں انتخابی ریزرویشن دلانے والا 'پونا معاہدہ' ختم کیے جانے ، دلتوں کو ملنے والے ریزرویشن کے خلاف سابق وزیر ایشورپّا کی جانب سے بیان بازی اور موجودہ وزیر تعلیم کی ذات پات والے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے دلت سنگھرش سمیتی (امبیڈکر واد) اڈپی ضلع یونٹ کی طرف سے ایشورپّا اور ناگیش کی علامتی ارتھیوں کے ساتھ احتجاجی جلوس نکالا اور دونوں کے پتلے جلائے گئے ۔
شہر کے بورڈ ہائی اسکول سے ایشورپّا اور ناگیش کے پتلوں کی ارتھی کے ساتھ جلوس نکالا گیا اور اجرکاڈ ہوتاتما سمارک پر ان علامتی پتلوں کو نذر آتش کرتے ہوئے اپنے غصہ اور احتجاج کا مظاہرا کیا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر پھنی راج نے کہا کہ دلتوں کو انصاف دلانے والے امبیڈکر کی طرف سے تجویز کردہ 'پونا معاہدہ' سے دلتوں کو تقویت ملی تھی ۔ مگر اسے ختم کرکے دلتوں کو دھوکا دیا گیا ۔ 'پونا معاہدہ' کو ایک سوال بنا کر تمام سیاسی پارٹیوں کے سامنے رکھنا چاہیے ۔ اسے دوبارہ بحال کرنے والی پارٹیوں کو ہی ووٹ دینا چاہیے ۔ اس طرح اس معاملہ کو سیاسی جدوجہد کا ذریعہ بنانا چاہیے ۔
دلت سنگھرش سمیتی امبیڈکرواد کے ضلع کنوینر سندر ماستر نے کہا کہ ذات پات پر یقین رکھنے والے برہمن وزیر ناگیش دلت طالب علموں کو بدعقیدگی سے بھرا ہوا 'وید گنیت' (وید پر مبنی علم حساب) سکھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ اس کی تربیت کے لئے 60 کروڑ روپے منظور کرنے کے احکام جاری ہوئے ہیں ۔ یہ سب دلتوں کی رقم ہتھیانے کے طریقے ہیں ۔
سی پی ایم لیڈر بال کرشنا شیٹی نے کہ ایشورپّا کے ریزرویشن مخالف دلت مخالف بیانات اور بی سی ناگیش کے حکم پر دلت طالب علموں کو 'وید گنیت' سکھانے کی تیاری بی جے پی کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے ۔ مذہبی تہوار کے موقع پر مورتی کا پیر چھونے والے دلت لڑکے پر جرمانہ لگانے والی ذہنیت کے لوگ بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے کی بات کر رہے ہیں ۔ انہیں سب سے پہلے اس دیش کو انسانوں کے جینے کے قابل بنانے کی فکر کرنی چاہیے ۔ اس کے بدلے میں مودی کے دوست آدانی اور امبانی ملک کی تعمیر کرنے میں لگے ہیں ۔
اس احتجاج میں دلت لیڈروں اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی ۔