اڈپی 19/ ستمبر (ایس او نیوز) 'مانَو باندُھتوا ویدیکے کرناٹکا' کی اڈپی ضلع کمیٹی کی جانب سے 'منی پال اِن' ہوٹل میں منعقدہ سمپوزیم میں بولتے ہوئے ہمپی کنڑا یونیوسٹی کے موظف پرنسپال پروفیسر چندر پجاری نے کہا کہ برہمنی ذہنیت کبھی بھی ذاتی، مذہبی اور جنسی مساوات، شخصی آزادی، بھائی چارگی کو نہیں مانتے ۔ اس لئے برہمنیت کو نہ ماننے والوں کو مساوات، آزادی اور بھائی چارگی جیسے بنیادی حقوق دینے والے ملک کے آئین کو یہ لوگ نہیں مانتے اور اسے بدلنا چاہتے ہیں ۔
پروفیسر چندر پجاری نے کہا کہ مغلوں اور انگریزوں کے دور حکومت میں برہمنیت کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ، لیکن جب ملک کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو برہمینت کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے ، کیونکہ صرف ہمارے آئین نے اس برہمن واد پر سوال اٹھائے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ برہمنیت وادیوں کے لئے اسے قبول کرنا ممکن نہیں ہو رہا ہے ۔
اس سمپوزیم میں مصنف اور دانشور ڈاکٹر راجپّا دلوائی ، تیریکیرے سرکاری آرٹس کالج کی پرنسپال اور مصنفہ ڈاکٹر سبیتا بنّاڈی نے بھی اپنے مقالے پیش کیے ۔