نئی دہلی، 25 مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے الزام لگایاہے کہ مالی بل آئینی جوازکودرکنارکرتے ہوئے ایوان میں منظورکیاگیاہے۔ کانگریسی لیڈرسرجیوالانے ہفتہ کو کہا کہ آزادہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بارہواہے کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسے بل کو منظور کیا گیا ہے جس میں40 بار مختلف قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ سرجیوالانے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ 40 نظر ثانی قانون ’’مالی بل‘‘ کے تحت آتے ہیں یانہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوک سبھا میں اکثریت کے غلط استعمال سے اس ’’منی بل‘‘کی دفعات کا استعمال کرتے ہوئے، آئینی جواز اور انسٹال کانفرنسوں کو درکنار کرتے ہوئے اسے منظورکیاگیاہے۔ سرجیوالانے کہاکہ اتنا ہی نہیں، خزانہ بل نے ٹیکس چوروں اور کالا دھن رکھنے والوں کے لیے کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک آسان راستہ دے دیاہے۔ ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے جس میں کالے دھن کا خدشہ رہتا ہے، اس پر کوئی قانون نہیں بنایاگیا۔ اس بل میں شفافیت، غیر جانبداری اور اخلاقیات کی بجائے مرکز کی مودی حکومت نے الجھن اور دھوکے کا سہارا لے کر ملک کے عوام کو ٹھگاہے۔ اس بل کو منظور کرکے راجیہ سبھا کی مطابقت اوراہمیت کو بھی ختم کرنے کا حکومت کی طرف سے کوشش کی گئی ہے۔اس خزانہ بل کا منظورہوناجمہوریت کے لئے افسوسناک ہے۔ قابل ذکرہے کہ مودی حکومت کا طویل الانتظار خزانہ بل بدھ کو لوک سبھا میں منظورہو گیا۔