نئی دہلی 22/جنوری (ایس او نیوز) آسام میں بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمان راہل گاندھی کو جب مندر میں داخل ہونے سے روکا گیا تو انہوں نے ریاستی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا کہ مجھے مندر جانے سے بھی روکا جارہا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق آسام کے نگاؤں ضلع میں ویشنو سنت شنکر دیو کی جائے پیدائش کے موقع پر راہل گاندھی کا پہلے سے وہاں جانے کا پروگرام تھا، اس کے لیے اجازت نامہ بھی حاصل کرلیا گیا تھا لیکن عین وقت پر انہیں وہاں جانے سے روک دیا گیا۔ ا س موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پہلے انتظامیہ نے ان کو ویشنو سنت شنکر دیو کی جائے پیدائش پر جانے کی اجازت دی تھی لیکن اب روکا گیا ہے۔ چونکہ میں جائے پیدائش سے قریب پہنچ چکا ہوں اور اس مقام کی صرف زیارت کرنے جانا چاہتا ہوں لیکن مجھے نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’لگتا ہے کہ آج صرف ایک آدمی کو ہی مندر جانے کی اجازت ہے۔‘‘ اس موقع پر راہل گاندھی کی پولیس افسران سے گرما گرم بحث ہوئی۔ افسران نے ان سے کہا کہ ’’ہم آپ کو شام 3 بجے کے بعد جانے دے سکتے ہیں۔‘‘
پولیس افسران کے ذریعے راہل گاندھی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ہمارے پاس آرڈر ہے۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے پوچھا کہ ’’میں نے کیا غلطی کی ہے کہ مجھے مندر جانے سے روکا جارہا ہے ؟ میرے پاس جانے کا اجازت نامہ موجود ہے، راہل گاندھی نے ان سے بار بار یہ سوال کیا کہ ’’میری غلطی ہے تو مجھے بتاؤ۔‘‘ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انتظامیہ نے راہل گاندھی کو بوردووا تھانہ جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد احتجاجاً راہل گاندھی اسی جگہ بیٹھ گئے جہاں انتظامیہ نے بیریکیڈ لگاتے ہوئے انہیں روکا تھا۔ حالانکہ مقامی ایم پی و ایم ایل ایز کو شنکر دیو مٹھ جانے کی اجازت دی گئی لیکن راہل گاندھی کو نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا نگاؤں ضلع میں ہی ہے اور رام للا کی پران پرتشٹھا کے دن ان کا نگاؤں ضلع کے بوردووا تھانہ جانے کا بھی پروگرام تھا۔