ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترپردیش کے بعد اب دیگربی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں بھی گوشت کی دکانوں پر چھاپے؛ سنبھل میں پولس پر پتھرائو

اُترپردیش کے بعد اب دیگربی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں بھی گوشت کی دکانوں پر چھاپے؛ سنبھل میں پولس پر پتھرائو

Thu, 30 Mar 2017 03:19:44    S.O. News Service

نئی دہلی (ایس او نیوز/ ایجنسی). اتر پردیش میں غیر قانونی گوشت کی دکانوں اور مذبح خانوں کو بند کئے جانے کے بعد اب گوشت خوروں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ بی جے پی کے اقتدار والی  دیگر ریاستوں میں بھی پھیلتا جارہا ہے. ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اب  راجستھان، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بھی غیر قانونی مذبح خانوں کے نام پر  گوشت کی دکانوں پر انتظامیہ نے حملہ بولتے ہوئے اُنہیں بندکرانا شروع کردیا ہے۔ 

جے پور میونسپل نے کسا ​​شکنجہ
جے پور میں میونسپل کارپوریشن نے غیر قانونی مذبح خانوں اور  دکانوں پر اپریل سے کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے. کارپوریشن کے مطابق یہاں کی قریب 4،000 دکانیں غیر قانونی ہیں جن کو بند کیا جا سکتا ہے. مگر گوشت فروشوں نے دعوی کیا ہے کہ ان میں سے 950 دکانیں درست ہیں، لیکن کارپوریشن نے گزشتہ سال 31 مارچ کے بعد ان کے لائسنس کی تجدید  نہیں کررہی ہے. جے پور میونسپل کے ایک افسر نے بتایا کہ لائسنس رنيو نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ میونسپل نے 10 روپے کی لائسنس فی کو بڑھا کر 1000 روپے کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی تھی، لیکن اس کے لئے اب تک گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے.

لائسنس بنا مسئلہ
نیو جے پور گوشت ایسوسی ایشن کے صدر اے آر قریشی نے بتایا کہ ، 'اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں کیونکہ لائسنس کے رنيول کے لئے ہم نے درخواست دے دیا تھا. ہماری درخواست کو قبول نہیں کیا گیا. ہم جے پور میونسپل کے خلاف  اس کارروائی پر احتجاج کریں گے. میونسپل ذرائع نے بتایا کہ شروع میں غیر قانونی گوشت کی دکانوں اور مذبح کے خلاف کارروائی کی جائے گی. جن دکانوں کے پاس پہلے لائسنس تھے ان پر کارروائی نہیں ہوگی. پر قانون کے مطابق کام نہیں کئے جانے پر ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی. '

ہردوار میں انتظامیہ کی طرف سے کی گئی چھاپہ ماری میں انتظامیہ کا کہنا ہے  کہ 6 میں سے صرف تین دکانوں کے پاس درست لائسنس تھا. باقی کے تین دکانیں غیر قانونی طریقے سے چلائی جا رہی تھیں. ہردوار کے ایس ایس پی کرشن کمار وی نے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا، 'نوراتری کو دیکھتے ہوئے کسی نے شکایت کی تھی، جس پر کارروائی کی گئی. ویسے گوشت کی دکانیں جو بغیر لائسنس چلائی جا رہی ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جن کے پاس درست کاغذات ہیں انہیں پریشان نہیں کیا جائے گا. '

ہریانہ میں پانچ سو دکانیں بن کرائی گئیں
اُدھر فرقہ پرستوں کے حوصلے بھی حد سے زیادہ بلند ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت کی کاروائیوں کے درمیان دیگر ریاستوں میں گوشت کی دکانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے  مطابق گڑگائوں میں شیوسینا نے جبری طور پر گوشت اور چکن کی پانچ سو دکانوں کو بند کرادیا۔ ان میں ملٹی نیشنل فوڈ چین کے ایف سی بھی شامل ہے۔ اطلاع کے مطابق گڑگائوں میں تقریبا دو سو شیوسینکوں نے گوشت کی دکانوں پر دھاوا بول دیا اور نوراتری تک تمام دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کی دھمکی دی۔ اس کے ساتھ ہی شیو سینکوں نے گوشت فروشوں کو ہر منگل کو بھی دکان بند رکھنے کا سخت انتباہ دیا۔ شیو سینا نے کے ایف سی کی ایک دکان میں گھس کر وہاں چکن کھانے آئے لوگوں کو دکان سے باہر کھدیڑ دیا اور دکان بند کرادی۔ شیوسینا کا دعویٰ ہے کہ اسے اس کاروائی میں مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور اُن ہی لوگوں کے نوراتری کے دوران گوشت کی دکانیں بند کرانے کی مانگ کی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے شیوسینکوں نے اپنی غنڈہ گردی کی اطلاع پہلے پولس کو دے دی تھی لیکن دکانوں کو جبری طور پر بند کرائے جانے کی غیر قانونی حرکت روکنے کے لئے پولس حرکت میں نہیں آئی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پولس بھی شیوسینکوں کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ان کی مدد کررہی ہے۔ گرگائوں پولس کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولس منیش سہگل نے حالانکہ دعویٰ کیا کہ  اُنہیں اس کاروائی کی معلومات نہیں ہے اور اگر کسی نے لائسنس یافتہ دکانوں کو بند کرایا تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے، لیکن وہ تاجروں کا بھروسہ نہیں جیت سکے کیوں کہ  بہت سے تاجروں نے دکانیں بند کردی تھیں۔

آلودگی کی وجہ ہیں یہ دکانیں
چھتیس گڑھ میں رائے پور میونسپل کارپوریشن زون -2 کمشنر آر کے ڈوگرے نے تین دن کے اندر اندر 11  گوشت کی دکانوں کو بند کرنے کو کہا ہے. اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اُن  دکانوں کو سیل کرنے کی وارننگ دی ہے۔ ان کے مطابق یہ سبھی گیارہ دکانیں غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق یہ دکاندار. گندگی کو سڑک کے کنارے یا گٹر میں ڈال کر  ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں.

اندور بھی پیچھے نہیں
اندور میونسپل نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک دکان کو بند کرنے کا حکم دیا. کارپوریشن افسر نے بتایا، 'ہمیں کچھ دنوں سے دکان کے بارے میں شکایت مل رہی تھی. جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کی گوشت کو کھلے میں رکھا جاتا ہے اور دکان کی حالت بھی خراب تھی. ' اس درمیان رانچی میونسپل نے شہر میں غیر قانونی مذبح اور گوشت کی دکانوں کو بند کروا دیا ہے.

گوشت تاجروں کی تین شرائط
اُترپردیش میں گذشتہ کئی روز سے ہڑتال کررہے گوشت کاروباریوں نے ریاستی حکومت کے سامنے اپنی ہڑتال ختم کرنے کے لئے تین شرائط رکھے ہیں جس میں ایک یہ کہ بند پڑے مذبح کو پھر سے شروع کرانا، گوشت کی دکانوں کے لائسنس کی تجدید اور جانوروں کو لے جارہی گاڑیوں اور ان کے ڈرائیورسے پولس کے ذریعہ ناجائز وصولی پر روک لگانا شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسوسی ایشن نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر حکومت ان شرائط پر عمل شروع کردے تو ہڑتال ختم کردی جائے گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ منگل کو گوشت کاروباریوں کی اُترپردیش کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ سے ملاقات ہوئی تھی مگر کوئی نتیجہ  نہیں نکل پایا تھا، ذرائع کے  مطابق بدھ کو ان سے ریاستی حکام نے رابطہ کرکے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ ہڑتال ختم کردیں مگر یہ کاروباری اپنے کام پر تبھی لوٹنا چاہتے ہیں جب یوگی حکومت ان کے مسائل پر سنجیدگی دکھائے۔

عدالت جانے کی تیاری
ایسا کہا جارہا ہے کہ تاجروں کا  ایک طبقہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کررہا ہے لیکن تب تک بی جے پی ہر ریاست میں گوشت بندی کردے گی۔ اس تعلق سے تاجر برادری اپنے تمام متبادلات پر غور کررہی ہے۔ اُترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں غیر قانونی مذبحہ خانوں کے نام پر  سبھی گوشت کی دکانوں پر دھاوا بولا گیا تھا ۔ اُدھر ہری دوار میں بھی حکمراں جماعت بی جے پی نے مذبح کے خلاف کاروائی کا حکم جاری کردیا ہے۔راجستھان سے ملی اطلاع کے مطابق جےپور میں تقریبا چار ہزار گوشت کی دکانوں جن میں بکرے اور مرغ سبھی شامل ہیں، بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

سنبھل میں پولس پرزبردست پتھرائو
اُترپردیش کے  کے مسلم اکثریتی شہر سنبھل میں گئو کشی کے نام پر پولس اور عوام کے درمیان ہوئی جھڑپ میں کئی افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں مشتعل بھیڑ نےپولس پر زبردست پتھرائو کیا، جس کے بعد پولس اہلکاروں کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اطلاع کے مطابق  پولس کو سنبھل کے مسلم اکثریتی علاقہ دیپ سرائے میں جانوروں کو لے جانے کی اطلاع پر پولس نے کاروائی کرتے ہوئے صبح کے وقت دو جانور ضبط کرلئے تھے، مگر دوپہر میں دو پولس اہلکاروں نے علاقے میں واپس جاکر دو مسلم نوجوانوں کو زبردست زودوکوب کیا اور اُنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو عوام مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پولس پر زبردست پتھرائو کرکے اُنہیں دوڑالیا، بعد میں جب پولس کی زائد فورس پہنچی تو اُن پر بھی زبردست پتھرائو کیا گیا اور انہیں بھی وہاں سے  بھاگنے پر مجبور کردیا گیا۔


Share: