اورنگ آباد4اکتوبر(ایس انیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اورنگ آبادکے حمایت باغ انکاونٹر کیس میں خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کردیا ہے۔ عدالت نے چاروں مسلم ملزمان پرسے یو اے پی اے ایکٹ کو ہٹا دیا ساتھ ہی دہشت گردی کے الزام کو بھی خارج کر دیا ہے۔ تاہم دو ملزمان کو سی آر پی سی کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ جمعیت علما ہند محمود مدنی گروپ نے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔ نیز اس نے دو ملزمان کوانصاف دلانے کے لیے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنہ2012 میں 26 مارچ کو اورنگ آبادمیں پہلی مرتبہ انکاؤنٹر کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اے ٹی ایس کی اس کارروائی میں خلیل قریشی عرف اظہرکی موت ہوگئی تھی جبکہ دیگر ایک زخمی ہوا تھا۔ اے ٹی ایس نے یہ کارروائی اس وقت کے ایس پی نوین چندر ریڈی کی قیادت میں انجام دی تھی۔اس معاملے کے دیگر ملزمان کی گرفتاریاں بعد میں عمل میں آئیں۔ جانچ ایجنسیوں نے ملزمان پر دہشت گردی اور سرکاری اہلکاروں پرجان لیواحملے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس معاملے میں ایک پولیس اہلکار شیخ عارف زخمی ہواتھا۔عدالت نے چاروں مسلم ملزمان پرسے یو اے پی اے ایکٹ کو ہٹا دیا ساتھ ہی دہشت گردی کے الزام کو بھی خارج کر دیا ہے۔پولیس کا دعوٰی تھا کہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا۔ پولیس پرفرضی انکاونٹر کا الزام بھی لگا۔ پانچ سال تک چلی قانونی لڑائی میں خصوصی عدالت نے چاروں ملزمان کو دہشت گردی اور یو اے پی اے سے بری کردیا۔ جمعیت علماء ہندکے وکیل نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔پولیس کا دعویٰ تھاکہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا۔ پولیس کا دعوٰی تھا کہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا۔جمعیت علماءہند کے ریاستی صدر حافظ ندیم صدیقی نے حمایت باغ انکاؤنٹر معاملے میں وکلا کی ٹیم کی خوب ستائش کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ناکافی ثبوتوں کی بناء4 پر ملزمین پر سے دہشت گردی کا الزام خارج کیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے میں مہلوک خلیل قریشی اور دیگر ملزمان کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے۔