تہران،7اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ ایرانی حکام نے امریکا میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد وطن اپس لوٹنے والے کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو پھانسی دے دی ہے تاہم ایران کے سرکاری ذرائع نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ اس سے قبل جوہری سائنسدان شہرام امیری کو امریکا سے واپسی پر دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایران میں فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینلمن و تو نے اپنی رپورٹ میں شہرام امیری کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جوہری سائنسدان کو بدھ کی صبح پھانسی دی گئی تاہم ایران جوڈیشل حکام اس خبر پرخاموش ہیں۔خیال رہے کہ شہرام امیری کا تعلق ایران کے مغربی ضلع کرمان شاہ کے کرد اکثریتی علاقے سے تھا۔ وہ ایرانی فوج کے زیراہتمام چلنے والی مالک اشترک انڈسٹریل یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ سن 2009ء میں مناسک حج کے دوران وہ اچانک غائب ہوئے۔ ایک سال بعد معلوم ہوا کہ وہ امریکا میں ہیں جہاں انہوں نے امریکی حکام سے پناہ کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران کے مطالبے پر وہ دوبارہ تہران لوٹ آئے تھے جہاں ایک ہیرو کے طور پر ان کا استقبال کیا گیا۔ان کا استقبال کرنے والوں میں ایرانی وزارت خارجہ کے سابق معاون حسین قشقاوی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور ریاستی راز افشاء کرنے کے الزمات میں انہیں 10سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ایران واپسی سے قبل شہرام امیری کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں یرغمال ہوچکے ہیں۔ جب کہ ایک دوسری ویڈیو میں کہا گیا کہ وہ امریکا میں رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور امریکا میں پناہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکا پر اپنے جوہری سائنسدان کے اغواء کاالزام عاید کیا تھا تاہم واشنگٹن نے تہران کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ شہرام امیری خود ہی امریکا میں پناہ کے حصول کے خواہاں تھے۔
شہرام امیری کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔ بعض ذرائع انہیں امریکا کا ایجنٹ قرار دیتے جب کہ ان کے امریکا کے سفرکو بعض نے ایرانی خفیہ اداروں کا پلاٹ قرار دیا تھا۔پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی فارس نے ایک ذمہ دار سیکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ شہرام امیری کو امریکا ایرانی خفیہ اداروں ہی کی پلاننگ کے تحت لے جایا گیا۔ اس کامقصد امریکا کے اہم راز چوری کرنا تھا تاہم وہ امریکی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگے اور انہوں نے ایران کے اہم راز امریکیوں کو فراہم کیے تھے۔ سیکیورٹی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہرام امیری نے امریکیوں کو ایران کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کی تھیں۔ایران واپسی کے بعد گرفتاری کے عرصے میں بھی فارسی ذرائع ابلاغ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ شہرام امیری امریکیوں کو حساس نوعیت کی معلومات بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام کے راز مہیا کرتے رہے ہیں۔ایران کی جوہری کونسل کے سیکرٹری جنرل اور جوہری تنازع کے مذاکرات کار سعید جلیلی نے جرمن اخباردیر اسپیگل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شہرام امیری بیرون ملک دورے کے دوران اغواء ہوگئے تھے۔ وہ ایک سال تک لاپتا رہے۔وطن واپسی پرانہیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہیں۔
کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو دی جانے والی پھانسی کی سزا کی خبروں نے ایک پنڈورہ بکس کھول دیا ہے کیونکہ اس سے قبل ایران کی عدالتوں نے امیری کو سزائے موت نہیں بلکہ 10سال قید کی سزا سنائی تھی۔شہرام احمدی کی والدہ نے من وتو ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند ایام قبل خاندان کے تمام افراد کو کرمان شاہ کی ایک جیل میں قید شہرام امیری سے ملاقات کرائی گئی تھی۔والدہ کا کہنا ہے کہ شہرام امیری ایک فوجی کیمپ میں قید تھے۔ ایرانی عدالتوں نے انہیں دس سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اس کے باوجود شہرام امیری کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ذراء کے مطابق سزائے موت پرعمل درآمدکے بعد شہرام امیری کی میت آبائی شہرکرمان شاہ منتقل کردی گئی ہے۔