ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امریکا اور روس کے بیچ ترکی ’سینڈوِچ‘ بنتا ہوا

امریکا اور روس کے بیچ ترکی ’سینڈوِچ‘ بنتا ہوا

Sun, 09 Apr 2017 17:01:25    S.O. News Service

دمشق9اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شام میں امریکی میزائل حملوں کے بعدترکی نے زور دیا ہے کہ واشنگٹن کو صدراسدکے خلاف زیادہ سخت ایکشن لیناچاہیے۔تاہم انقرہ کے اس مؤقف کے باعث اْس کی ماسکو کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا امکان زیادہ ہوگیاہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا کو شامی صدر بشار الاسد کے خلاف زیادہ سخت ایکشن لینا چاہیے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکا نے شام کی چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران پہلی مرتبہ شامی فورسزکوبراہِ راست نشانہ بنایاہے۔ان امریکی فضائی حملوں  کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ایردوآن نے اس عسکری کارروائی کو صدربشارالاسد کی طرف سے کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کے تناظر میں ’مثبت اور درست قدم‘ قرار دے دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ اسد کے خلاف زیادہ مؤثر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن ملک ترکی ایک طرف تو شام کے معاملے پر امریکا کے ساتھ زیادہ تعاون کا خواہاں ہے تو دوسری طرف اسد کے حامی ملک روس کے ساتھ بھی مفاہمت کی کوششوں میں ہے۔ تاہم سکیورٹی مبصرین کے مطابق شامی حکومت کے خلاف امریکا کی براہ راست کارروائی محدود ہی رہے گی۔تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ایرون شٹائن کے مطابق ترک حکومت نہ تو امریکا کے ساتھ  اور نہ ہی روس کے ساتھ مل کر شام میں حکومت کو تبدیل کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں انقرہ حکومت روس اور امریکا کے بیچ سینڈوچ بن کر رہ جائے گی۔سن 2010ء میں ابھی اْس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دْنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء  میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ترکی کی کوشش ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کر دیا جائے۔ امریکا بھی یہی چاہتا ہے لیکن ماسکو حکومت اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔ ماسکو اور شامی صدر کا کہنا ہے کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو ہی کرنا چاہیے اور اس مقصد کی خاطر بیرونی حل مسلط کرنا پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔استنبول پالیسی سینٹر سے وابستہ تجزیہ نگار اور سابق فوجی افسر متین گورکان کے مطابق شام کے مستقبل کے بارے میں امریکا اور روس کے مابین ایک کشمکش کا سلسلہ جاری ہے اور ترکی ان دونوں ممالک کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کبھی ترکی امریکا کے ساتھ ہوتا ہے تو کبھی روس کے ساتھ۔ گورکان کے بقول اس صورتحال میں ترکی شامی تنازعے کی حل کی کوششوں کے سلسلے میں ایک ناقابل اعتبار فریق بن سکتاہے۔


Share: