نئی دہلی :08/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے شائع ہونے والی کتاب ”ویژن 2025 سماجی واقتصادی ناہمواریاں:ہندوستانی معاشی ترقی کو ایک ہمہ گیر لائحہ عمل کی ضرورت کیوں ہے؟“ کا رسم اجرا معروف دانشور پروفیسر امیتابھ کنڈو سابق صدر شعبہ سائنس جواہر لال نہرو یونیورسیٹی کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے سی آئی ٹی کانفرنس ہال میں عمل میں آیا۔اس موقع پراپنے خطاب میں پروفیسر کنڈو نے کہاکہ ہندوستان میں پائی جانے والی سماجی ومعاشی ناہمواریوں پر ویژن 2025 کے عنوان سے یہ ریسرچ قابل ستائش اور وقت کی ضرور ت ہے۔اس میں سماج کے تمام اہم پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔مکمل تفصیل دی گئی ہے اور ملک کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے جس پر عمل کرنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اس میں سوالات اٹھائے گئے ہیں اور بہت خوبصورت انداز میں سوال کرنے کا طریقہ اختیار کیاگیاہے۔اس موقع پر انہوں نے ہندوستان میں اقلیتوں کے مسائل پر ایک مختصر رپوٹ بھی پیش کی جس میں بتایاکہ تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے والے میں سب سے زیادہ ”مسلم“بچے ہیں۔ کام میں مسلم خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے تاہم اب اس میں اضافہ ہونا شروع ہوگیاہے لیکن دوسری دقت یہ ہے کہ جو خواتین گھروں سے نکل رہی ہیں انہیں ملازمت نہیں مل پارہی ہے۔انہوں صحت اور دیگر شعبوں میں بھی مسلمان کے مسائل کا تذکرہ کیا۔آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹرمحمد منظور عالم نے اس موقع پر کہاکہ آج جب ہم 2018 میں بات کررہے ہیں توہمارے ذہن میں 1947 کی تصویر گردش کررہی ہے۔ جو خوف وہراس کا ماحول اس وقت کے مسلمانوں میں قائم تھا وہ آج بھی مختلف طریقے سے پایاجاتاہے اور دسیوں فسادات میں ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔قبل ازیں ویژن 2025 کے ایڈیٹر پروفیسر امیر اللہ خان نے کہاکہ گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے اگرچہ معیشت کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچایاہے تاہم مسلم آباد ی کی حالت زار اور بدتر ہوئی ہے۔