کابل یکم مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مبینہ طورپر طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط رکھنے والے ایک افغان پولیس اہلکارنے جنوبی صوبے ہلمند میں ایک چیک پوائنٹ پر کارروائی کرتے ہوئے اپنے گیارہ ساتھی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پرایک صوبائی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایاکہ طالبان کے ساتھ روابط رکھنے والے ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے اپنے گیارہ ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘یہ واقعہ صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار اپنی بیرکوں میں سو رہے تھے۔صوبہ ہلمند کے ایک اہلکار کے بقول حملہ آور اس کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہو گیا اور جاتے وقت جائے وقوعہ پر موجود اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ پولیس نے اسے پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے لشکر گاہ کے ایک ہسپتال میں گیارہ افراد کی لاشیں لائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ اسی دوران طالبان کی جانب سے بھی ایک بیان میں اس داخلی حملے کی ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے۔افغانستان میں قریب پندرہ برس سے جاری جنگ میں داخلی حملے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ داخلی حملے ایسے حملوں کو کہا جاتا ہے، جن میں کوئی افغان فوجی یا پولیس اہلکار اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں نہ صرف فوجیوں اور سکیورٹی دستوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ان کی وجہ سے عدم اعتماد کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے۔