ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسٹیل برڈج معاملہ میں سدرامیا پر 65کروڑ کی رشوت لینے کا الزام،سابق وزیر اعلیٰ نے موجودہ وزیر اعلیٰ پر حملوں کا سلسلہ آگے بڑھایا

اسٹیل برڈج معاملہ میں سدرامیا پر 65کروڑ کی رشوت لینے کا الزام،سابق وزیر اعلیٰ نے موجودہ وزیر اعلیٰ پر حملوں کا سلسلہ آگے بڑھایا

Wed, 01 Mar 2017 12:36:55    S.O. News Service

بنگلورو،28؍فروری(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا نے وزیراعلیٰ سدرامیا پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج دعویٰ کیا کہ رکن کونسل گووند راجو نے اپنی ڈائری میں درج کیا ہے کہ ودھان سودھا سے ہبال تک تعمیر ہونے والے مجوزہ اسٹیل برڈج کی تعمیر کے عوض 65کروڑ کی پیشگی رشوت وزیر اعلیٰ سدرامیا کو ملی ہے، یڈیورپا نے کہا کہ محکمۂ انکم ٹیکس نے گووند راجو کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ضبط کی گئی ڈائری میں انکشاف ہوا ہے کہ 65کروڑ روپیوں کی یہ رقم سدرامیا اور ان کے اہل خانہ نے حاصل کی ہے۔ گووند راج نے ڈائری میں یہاں تک بتایا ہے کہ انہوں نے خود سدرامیا تک یہ رقم پہنچائی ہے۔ سابق رکن اسمبلی دنکر شٹی اور پرمود ہیگڈے کو پارٹی میں شامل کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا پر انہوں نے جو بھی الزامات لگائے ہیں ان پر وہ قائم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت انہوں نے یہ الزامات منظر عام پر لائے کانگریس لیڈروں نے ان پر من مانے طریقے سے نکتہ چینی کی ، لیکن اب وزیراعلیٰ سدرامیا سمیت تمام کاگریس قائدین خاموش ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی ٹی وی چینلوں کے ذریعہ جب ڈائری کے صفحات منظر عام پر آئے تو بیچارے سدرامیا تین دن گھر کے اندر بند ہوگئے۔ ان کی حالت دیکھ کر انہیں خود سدرامیا پر رحم آیا۔ انہوں نے کہاکہ سدرامیا کو اس ڈائری کے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کا سلسلہ ترک کردینا چاہئے۔ گووند راجو نے مان لیا ہے کہ یہ ڈائری انہی کی ہے تو پھر ایجنسیوں کو اس کی جانچ کا موقع ملنا چاہئے۔ یڈیورپانے اس موقع پر مختلف پارٹیوں سے آنے والے بی جے پی لیڈروں کی شمولیت کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی کانگریس سے اور بھی بہت سارے لیڈروں کی بی جے پی میں شمولیت متوقع ہے۔ سابق وزیر کمار بنگارپا اور جے ڈی نائک سے انہوں نے از خود بات چیت کی ہے اور ان دونوں نے بی جے پی میں شمولیت پر رضامندی کا بھی اظہار کیا ہے۔ پروگرام میں مرکزی وزیر اننت کمار ، رکن اسمبلی گووند کارجول ، وشویشور ہیگڈے کاگیری ، اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔


Share: