ممبئی،27؍نومبر (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) آج بعدنمازظہراسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکاستائیسواں سیمینار اختتام کوپہونچا۔سیمینارکی مختلف نشستوں میں جن مسائل پرگفتگوکی گئی ان میں ایک موضوع عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل ہے۔اس موضوع پرتمام علماء نے اتفاق رائے سے جوباتیں طئے کیں ان کے اہم نکات یہ ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اسلامی ماحول کے ساتھ عصری تعلیمی اداروں کاقیام ضروری ہے،ان اداروں میں عصری تعلیم کے اعلیٰ معیارکے ساتھ ساتھ اسلام کے بنیادی عقائدرسول اللہ کی سیرت اورذاتی اورمعاشرتی زندگی کے ضروری مسائل سے ضرورواقف کرایاجاناچاہئے جن اداروں میں مخرب اخلاق ماحول ہو،جنسی تعلیم دی جاتی ہو،دیومالائی کہانیاں نصاب کاجزہو،ڈانس اورمیوزک وغیرہ ہو،مسلمانوں کے لئے ایسی درسگاہوں میں اپنے بچوں کوداخل کراناجائزنہیں ہے اورمسلمان انتظامیہ کافریضہ ہے کہ وہ اپنے زیراہتمام اداروں کوان خلاف شریعت اورغیراخلاقی باتوں سے محفوظ رکھے۔یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ شرعاًقریب البلوغ اوربالغ لڑکوں اورلڑکیوں کی مخلوط تعلیم اورکھیل کودیاورزش اورتفریح میں ان کااختلاط جائزنہیں ہے۔معیاری طریقہ یہ ہے کہ لڑکوں اورلڑکیوں کی تعلیم کے لئے الگ الگ عمارتیں ہوں،یاکم سے کم کلاس روم،آمدورفت کے راستے اورقضائے حاجت کی سہولتیں الگ الگ فراہم کی جائیں،یونیفارم میں بھی سترپوشی کاپورالحاظ ہو،اس بات کی بھی اپیل کی گئی کہ تعلیم کوایک خدمت کے طورپرانجام دیاجائے اسے تجارت نہ بنایاجائے۔
سیمینارکادوسراموضوع حیوانات کے حقوق اوران سے متعلق احکام تھے۔اس میں یہ بات طئے کی گئی کہ اسلام دین رحمت ہے،اس لئے وہ جانوروں کے ساتھ بھی مکمل حسن سلوک اورمشفقانہ برتاؤ کاحکم دیتاہے،اس بات پرزوردیاگیاکہ جانوروں کوان کی فطرت کے مطابق غذادی جانی چاہئے،چارہ خورجانوروں کولحمی غذادیناتاکہ تیزنشونماہوسکے بہترنہیں ہے،اسی طرح اگرحکومت کسی خاص جانورکے شکاریاذبح کرنے کومنع کرتی ہوتوقانون کااحترام کرناچاہئے،البتہ شریعت جس جانورکوحلال قراردیاہے قانون کی وجہ سے وہ حرام نہیں ہوجاتا۔ سیمینارکاتیسراموضوع طلاق اوراس سے پیداہونے والے اہم مسائل ہیں،اس سلسلے میں ایسی تدبیروں کواختیارکرنے کی تلقین کی گئی جورشتۂ نکاح کوپائیداررکھنے میں معاون ہو،جیسے عاقل وبالغ لڑکے اورلڑکیاں اپنی رضامندی سے رشتہ کاانتخاب کرسکتے ہیں،لیکن بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اولیاکواعتمادمیں لے کرزندگی کے اس اہم مسئلہ کافیصلہ کریں اوراولیا ء کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے اورلڑکیوں کی خواہش کونظراندازنہ کریں،طلاق کی گنجائش اسی وقت ہے جب کہ زوجین کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے،ماں باپ کے لئے بھی اس کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی اولادکوطلاق لینے پرمجبورکرے،اورنہ اس سلسلے میں اولادکے لئے بلاوجہ اس طرح مشورہ کوقبول کرنادرست ہے،یہ بات بھی کہی گئی کہ سماج مطلقہ کے نکاح کورواج دیناچاہئے اوراولیاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے نکاح کی فکرکریں۔
آج کل بڑے شہروں میں مکانات اورفلیٹ کی خریدوفروخت کے بہت سے مسائل پیداہوگئے ہیں۔یہ بھی سیمینارکاایک اہم موضوع تھا،اس کے تحت یہ بات طے پائی کہ جھوپڑپٹی میں رہنے والوں کابلڈریاکسی اورشخص کسی مکان کے فائل کاعوض لیناجائزہے بشرطیکہ یہ قانون کے خلاف نہ ہواورمکان بننے کے بعدجب تک مکان تیارنہ ہوجائے اورقبضہ میں نہ آجائے،سرکاری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی اورکے ہاتھ بیچناجائزنہیں ہے،اگرکسی معقول سبب کے بغیربلڈرمکان کی قیمت وصول کرلینے کے باوجودوقت پرمکان تیارکرکے نہیں دے اورپہلے سے یہ بات طے ہوکہ وقت کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں قیمت میں کمی ہوجائے گی توقیمت کی کمی کے ذریعہ خریداراپنے نقصان کی تلافی کرسکتاہے۔آج کل شہروں میں مجوزہ نقشہ کی بنیادپرعمارت بننے سے پہلے فلیٹ بیچ دئیے جاتے ہیں،یہ صورت جائزہے۔البتہ خریدارکے لئے یہ بات جائزنہیں ہے کہ مکان بننے اوراس پرقبضہ حاصل ہونے سے پہلے وہ کسی اورکوفروخت کردے۔واضح ہوکہ اس سہ روزہ سیمینارمیں ملک کی مختلف ریاستوں مہاراشٹر،کرناٹک،تمل ناڈو،کیرالہ،گجرات،بہار، بنگال، یوپی، راجستھان،کشمیر اورآسام وغیرہ کے مشہورومعتبرمفتیان کرام شامل تھے۔نیزسعودی عرب، بحرین، افغانستان، ترکی،جنوبی افریقہ اوربرطانیہ وغیرہ کے اہم علماء نے بھی شرکت کی۔اختتامی نشست میں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانافضل الرحیم مجددی نے جامعۃ الہدایہ جئے پورمیں اگلے سیمینارکی پیش کش کی جسے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے دیگرذمہ داروں کے مشورہ سے اس کوقبول کرنے کااعلان کیا۔اس سہ روزہ سیمینارکی افتتاحی نشست ۲۵؍نومبرکی صبح حج ہاؤس کے کانفرنس ہال میں منعقدہوئی جس کی صدارت اکیڈمی کے صدرمولانانعمت اللہ اعظمی نے کی۔دیگرمختلف نشستوں کی صدارت کے فرائض مولانامحمدقاسم مظفرپوری قاضی شریعت بہار،مفتی محمدصادق محی الدین نظامی،کاکاسعیدعمری اورمفتی احمددیولہ نے انجام دئیے۔سہ روزہ سیمینارکی اختتامی نشست کی صدارت مولانا منیر احمد مظاہری ممبئی نے کی اوران کی رقت آمیزدعاپرنشست کااختتام ہوا۔