ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / اجودھیا کوفوج کے حوالے کیا جائے: ایس ڈی پی آئی

اجودھیا کوفوج کے حوالے کیا جائے: ایس ڈی پی آئی

Sat, 24 Nov 2018 18:14:34    S.O. News Service

نئی دہلی 24 نومبر( پریس ریلیز؍ایس او نیوز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے اجودھیا میں شیو سینا ، آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے ذریعے دھرم سنسد پروگرام منعقد کرکے مندر تعمیر کرنے کا عہد لینے کیلئے لاکھوں ہندوؤں کے اکھٹا ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارٹی دفتر کو موصول اطلاعات کے مطابق اجودھیا کی سڑکوں پر مذکورہ تنظیموں کے کارکنان جمع ہیں اور اشتعال انگیز نعرے بلند کرکے مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنے اور غیر قانونی طور پر مندر کی تعمیر کیلئے ماحول سازگار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے اخباری بیان میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اتر پردیش کی یوگی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے ہیجان انگیز ماحول میں اس قسم کے پروگرام اور ریلی کی اجازت دینے سے صوبائی حکومت کی نیت کو مشکوک بناتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اجودھیا میں جس قسم کا ماحول بنا یا گیا ہے اس کی وجہ سے اجودھیا اور فیض آبادکے مسلمان خوف زدہ ہیں اور وہاں سے ہجرت کررہے ہیں ۔ اتر پردیش حکومت نے ان کے جان و مال کے تحفظ کا کوئی تیقن نہیں دیا ہے۔مصدقہ ذرائع سے یہ بھی خبر مل رہی ہے کہ لاکھوں کا یہ مشتعل مجمع وہاں موجود عارضی مندر کے مقام پر مستقل مندر تعمیر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے جس سے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوات ،شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے ، بی جے پی اور دیگر ہندتوا لیڈروں کی موجودگی میں یہ ہجوم صرف مندر کے تعمیر کا مطالبہ نہیں کرے گابلکہ رام مندر کاریہ شالا میں موجود پتھروں کو وہاں نصب کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں شہروں کو فی الفور فوج کے حوالے کرکے وہاں امن و امان کو یقینی بنا یا جائے اور عدلیہ کے احکامات کی حکم عدولی کو بھی روکا جائے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی اپیل کیا ہے کہ معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومت کو ہدایت دیں کے اجودھیا میں کسی بھی قسم کی قانون شکنی نہ ہو۔ ایس ڈ ی پی آئی نے اس سلسلے میں صدر جمہوریہ اور چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی خط لکھ کر ان سے درخواست کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرکے قانون کی عمل داری کو یقینی بنائیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر نہ ہوسکے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس امرپر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں اتنے سنگین حالات ہونے کے باوجود کانگریس سمیت دیگر تمام سیکولر پارٹیوں کی خاموشی بھی تشویشناک ہے۔ ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جہاں ملک کے پانچ اہم ریاستوں میں اگلے ہفتے انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں اجودھیا میں جو کشیدہ حالات پید ا کئے گئے ہیں وہ سراسر ان انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی مذموم کوشش ہے۔ بی جے پی ان ریاستوں میں مذہبی بنیادوں پر ووٹ بٹورنے کے خاطررام مندر کے معاملے میں زبر دستی اور غیر قانونی طریقے اختیار کرکے ووٹران کو متاثر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔اس پر دیگر تمام سیاسی پارٹیاں بھی اپنے سیاسی مفاد کیلئے جان بوجھ کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے آر ایس ایس اور ہندتوا تنظیمیں ملک میں جس طرح کی کشیدگی کا ماحول پیدا کررہے ہیں ابھی تک ان کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ ایک طرف اجودھیا میں حالات دگر گوں ہیں دوسری جانب وزیر اعظم راجستھان، میزورم اور مدھیہ پردیش میں انتخابی مہم اور ریلیاں کرنے میں مصروف ہیں۔وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو یقین دلائیں کہ اجودھیا میں حالات قابو سے باہر نہیں ہونگے اور غیر قانونی طریقے سے مندر کی تعمیر کو روکا جائے گا اور وہاں کی مقامی آبادی کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔


Share: