ہلدوانی،9/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں پولیس اور مقامی باشندوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے اور معاملہ اس قدر بگڑ گیا کہ لاٹھی چارج کے بعد بعد پولس نے مظاہرین پر فائرنگ کرنا شروع کردیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق میونسپل حکام نے ایک مدرسے اور مسجد کو سرکاری زمین پر تجاوزات قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کر دیا۔ جس کو لے کر مقامی لوگ بھڑک اٹھے اور توڑ پھوڑکی کاروائیوں پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے راستوں پر اتر آئے ۔ لاٹھی چارج اور فائرنگ میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں، اسی طرح پتھراو کی وارداتوں میں بھی کئی پولیس اہلکار اور صحافی زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانےبھی واردات پیش ائی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہلدوانی میونسپل اہلکاروں کی جانب سے بنبھول پورہ پولیس اسٹیشن کے قریب واقع مدرسے کو منہدم کرنے کے فوراً بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ پتہ چلا ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لئے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم دیا گیا جس کے بعد پولس نے فائرنگ شروع کردی۔
میڈیا کی دی ہوئی رپورٹنگ پر بھروسہ کریں تو جوابی کارروائی میں مشتعل مقامی باشندوں نے میونسپل اہلکاروں اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ انہدام کے دوران میونسپل کمشنر پنکج اپادھیائے، سٹی مجسٹریٹ ریچا سنگھ، اور ایس ڈی ایم پریتوش ورما موقع پر موجود تھے۔دریں اثنا، نانیتال ضلع مجسٹریٹ نے بھنبھول پورہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی سینئر حکام کی میٹنگ بلائی ہے اور علاقے میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ہلدوانی میونسپل کارپوریشن پچھلے کچھ دنوں سے اس علاقے میں انسداد تجاوزات مہم چلا رہی تھی، جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ مسجد اور مدرسہ کے تعلق سے عدالت میں معاملہ زیر سماعت تھا مگر اس کے باوجود مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مقصد سے انتظامیہ نے یہ کاروائی کی۔
بتایا جارہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں مدرسہ کے حکام کو یکم فروری تک جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔مقامی باشندوں نے مدرسے کو منہدم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 16 فروری کو عدالت میں اگلی سنوائی ہے۔ مگر حکام نے مسلمانوں اور مقامی لیڈران کی ایک نہ سنی۔ واضح رہے کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں مدارس کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر منہدم کیا جارہا ہے۔ آسام میں کئی مدارس کو منہدم کیا جاچکا ہے۔