لکھنؤ،2؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت مرکز کی ’سوبھاگیہ یوجنا‘ کے تحت ملک بھر میں غریبوں کو سب سے زیادہ بجلی کنکشن دینے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ لیکن خود یوگی حکومت کے افسروں کی جانچ میں انکشاف ہو رہا ہے کہ غریبوں کے نام پر جعلی کنکشن کے تار بچھا دیے گئے اور پرائیویٹ کمپنیوں نے اپنی تجوری بھر لی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کہتے رہے ہیں کہ یوپی میں سوبھاگیہ یوجنا کے تحت 1.38 کروڑ سے زیادہ گھروں میں مفت بجلی کنکشن دیے گئے ہیں۔ لیکن پاور کارپوریشن کے چیئرمین ایم دوراج نے جب سے ان کی جانچ کا حکم دیا ہے، تب سے کئی گورکھ دھندے یعنی بدعنوانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ویسے لگتا ہےکہ پرائیویٹ کمپنیوں نے اس معاملے میں خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ دراصل یہ کمپنیاں سیکورٹی رقم کی ڈیمانڈ کرنے چیئرمین کے پاس گزشتہ دنوں پہنچی تھیں۔ چیئرمین نے ادائیگی سے پہلے کنکشن کی جانچ کا حکم دے دیا۔ جانچ ہونے لگی تو کئی انکشافات ہونے لگے۔
مثلاً، گونڈا ضلع کے جھنجھری بلاک کے بابا کٹی گاؤں میں جھونپڑی میں رہ رہی سونی دیوی کے نام سے کنکشن تو جاری کر دیا گیا، لیکن میٹر پڑوس میں پیڑ پر ٹانگ دیا گیا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ سونی کو کنکشن بغیر درخواست کے ہی جاری کر دیا گیا۔ سونی دیوی جیسے کئی لوگ ہیں جن کے نام سے ایک دو نہیں بلکہ تین تین کنکشن دیے گئے ہیں۔ اسی طرح راجدھانی لکھنؤ کے جیتی کھیڑا کے سہووا علاقے میں کملا دیوی نے سوبھاگیہ یوجنا شروع ہونے سے پہلے ہی 1800 روپے کی ادائیگی کر بجلی کنکشن لیا تھا۔ لیکن کملا دیوی کے کنکشن کو بھی سوبھاگیہ یوجنا میں شامل کر لیا گیا۔
لکھنؤ کی ہی اوشا دیوی کو بھی سوبھاگیہ یوجنا میں کنکشن ملا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’’میٹر اور کیبل پرائیویٹ کمپنی کو دینا تھا۔ 200 روپے تار کے نام پر لے لیے گئے۔ ابھی تک نہ تو رسید دستیاب کرائی گئی اور نہ ہی کنکشن پیپر۔ ایسے میں بل کی ادائیگی نہیں ہو پا رہی ہے۔‘‘ بریلی میں ایدھ جاگیر گاؤں کی سروج، پشپا اور شانتی دیوی نے گزشتہ دنوں مقامی رکن اسمبلی سے شکایت کی تھی کہ سوبھاگیہ یوجنا کے نام پر دلالوں نے 1000 سے 3000 روپے لے لیے۔ اب کیبل چوری ہونے کے بعد گھر میں اندھیرے میں ہے، لیکن بل لگاتار آ رہا ہے۔