بنگلور:14/مارچ(ایس او نیوز) شہر کے بمسندرا علاقہ میں آج اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب مقامی بی جے پی کونسلرسرینواس پرساد عرف واسوکا ہسور مین روڈ کے بی ٹی پی ایل کالج کے قریب قتل کردیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ حملہ آوروں نے اس پر مہلک ہتھیاروں سے جان لیوا حملے کئے اور وہیں پر وہ ڈھیر ہوگیا۔ بمسندرا کے قریب کتگان ہلی کے ساکن 42سالہ واسو کو صبح پانچ بجے کے قریب موبائل فون پر ایک کال موصول ہوئی، اس کال کا جواب دے کر وہ آگے بڑھ رہاتھاکہ مہلک ہتھیاروں سے لیس ٹولی نے اسے گھیر لیا اور اس پر حملہ کردیا۔ واسو کے قتل کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں کی تعداد میں بی جے پی کارکن بی ٹی پی ایل کالج کے قریب جمع ہوگئے، جس کی وجہ سے گھنٹوں تک ہسور روڈ پر ٹریفک کا اژدہام رہا۔ پولیس کو ٹریفک نظام سہل کرنے کیلئے ہلکے لاٹھی چارج کا بھی سہارا لینا پڑا۔ بتایا جاتاہے کہ واسو پچھلے کئی برسوں سے بی جے پی کو منظم کرنے کیلئے اپنے علاقہ کے علاوہ آنیکل میں بھی سرگرم تھا، اور آنیکل کے سابق رکن اسمبلی اے نارائن سوامی کے اقرباء میں شمار کیا جاتا تھا۔ پچھلے دنوں اس نے بمن ہلی میونسپل کونسل کی صدارت کیلئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور صدارت نہ ملنے پر وہ عدالت سے بھی رجوع ہوا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ غالباً اسی سیاسی رقابت کے نتیجہ میں واسو کا کام تمام کیاگیا ہے۔ کتگان ہلی اور آس پاس کے علاقوں میں اس واقعہ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔پولیس کی طرف سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ واسو کے گھر کے پاس بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ رورل آئی جی پی سیمنت کمار سنگھ، ایس پی امیت سنگھ اور دیگر اعلیٰ افسران نے پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور حفاظتی انتظامات کئے۔ واسو کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے راستہ روکو احتجاج کرنے والے بی جے پی کارکنوں کو مناکر ان کو وہاں سے ہٹانے میں پولیس والوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک سہل ہونے کے بعد واسو کی نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے وکٹوریہ اسپتال روانہ کیاگیا۔ سیمنت کمار سنگھ نے بتایاکہ اس قتل کے مجرموں کا سراغ لگانے کیلئے چار خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جلد ہی ان لوگوں کو گرفتار کرلیاجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے سڑکوں پر اترنے والے بی جے پی کارکنوں کو مناکر ہسور روڈ سے ہٹادیا گیاہے۔ ہباگڈی پولیس تھانہ میں اس سلسلے میں قتل کا ایک مقدمہ درج کیاجاچکا ہے، اس دوران ریاستی بی جے پی نے آنیکل کے میونسپل کونسلر اور بی جے پی لیڈر سرینواس پرساد عرف واسو کے قتل کو ایک سیاسی قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام تک اگر ملزمین کو پولیس نے گرفتار نہیں کیاتو وہ ریاست گیر پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرے گی، رکن اسمبلی وجئے کمار، بی جے پی کے ترجمان اشوتھ نارائن، سابق وزیر نارائن سوامی اور دیگر نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ایک سیاسی قتل ہے، واسو میونسپل کونسل کی صدارت کے عہدہ کا ایک مضبوط دعو یدار تھا، اسی لئے سیاسی رقابت کے نتیجہ میں اس کا قتل کیا گیا ہے۔ نارائن سوامی نے کہاکہ ریاست میں نظم وضبط پوری طرح درہم برہم ہوچکا ہے، کیرلا کے طرز پر بی جے پی کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک طرح سے کرناٹک بہار بن چکا ہے اور آنیکل بہار سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور خاطیوں کو جلد ازجلد گرفتار کرے۔ اس موقع پر ان قائدین نے الزام لگایا کہ محکمہئ سماجی بہبود میں ایک بار پھر بستروں اور تکیوں کا گھپلہ سامنے آیا ہے، رواں سال بستروں اور تکیوں کی خریداری میں دس کروڑ روپیوں تک کی ہیرا پھیری کا الزام لگاتے ہوئے ان لوگوں نے اس کی جانچ کا مطالبہ کیا۔اس دوران وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بمسندرا کے میونسپل کونسلر اور بی جے پی لیڈر واسو کے قتل کی سخت مذمت کی ہے، اور کہاکہ اس واقعہ کیلئے جو بھی ذمہ دار ہیں ان کو جلد ا ز جلد گرفتار کرنے کیلئے انہوں نے پولیس کو حکم جاری کردیاہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ اب تک یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ یہ قتل سیاسی رقابت کا نتیجہ تھا یا ذاتی رنجش کا، قتل کا مقصد چاہے جو بھی ہو خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے قتل ہوئے ہیں، یہ تاثر دینا غلط ہے کہ صرف بی جے پی کارکنوں کے قتل ہورہے ہیں۔ بعض اوقات نجی وجوہات، رئیل ایسٹیٹ، لین دین اور دیگر اسباب کی بناء پر بھی قتل ہوتے ہیں۔ شیواجی نگر علاقہ میں چند ماہ قبل ردریش نامی آر ایس ایس کارکن کے قتل کے معاملے میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ اس قتل کے پیچھے بنیاد پرست طاقتوں کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت اب تک ریاستی پولیس یا این آئی اے کے ہاتھ نہیں لگاہے۔