بنگلور:14/مارچ(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کل صبح ساڑھے گیارہ بجے ریاستی اسمبلی میں اپنا ریکارڈ بارھواں بجٹ اور حجم کے اعتبار سے ریاست کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے کی تیاری مکمل کرچکے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر سدرامیا اس بجٹ کے ذریعہ سماج کے تمام طبقات کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ گزشتہ چالیس سال کی بدترین خشک سالی سے بدحال کسانوں کی مدد کیلئے جہاں سدرامیا کی طرف سے دس ہزار کروڑ روپیوں تک کے ان کے قرضہ جات معاف کرنے کا اعلان متوقع ہے، وہیں سماج کے کمزور طبقات بالخصوص اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور دلتوں کی فلاح وبہبود کیلئے متعدد اعلانات کئے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک اقلیتوں کا تعلق ہے بتایا جارہا ہے کہ سال گزشتہ سدرامیا حکومت کی طرف سے دئے گئے 14 سو کروڑ روپیوں کے بجٹ کو کل پیش ہونے والے بجٹ میں تقریباً تین گنا بڑھادیا گیا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق اقلیتوں کا بجٹ چار ہزار کروڑ روپیوں کے آس پاس ہوسکتاہے۔ حالانکہ اس عدد کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن کہا جارہاہے کہ بجٹ میں اقلیتوں کو معاشی اور تعلیمی طور پر مضبوط کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینے کا اعلان کیاجارہاہے۔ بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد خود روزگار اسکیم کا اعلان بجٹ کا حصہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی میدان میں اقلیتوں کو مستحکم کرنے کیلئے اسکالر شپ کو دئے جانے والے گرانٹس میں زبردست اضافہ کے ساتھ معاشی طور پر مسلمانوں کو مضبوط کرنے کیلئے نئی اسکیموں کا اعلان بھی متوقع ہے، حالانکہ مسلم لیجسلیٹرس فورم کی طرف سے وزیراعلیٰ سدرامیا سے کی گئی نمائندگی میں اس بات پر اصرار کیاگیاتھاکہ اقلیتوں کیلئے ایک مخصوص ہاؤزنگ اسکیم کا اعلان کیا جائے، لیکن اس اسکیم کا بجٹ میں اعلان ہوگا کہ نہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ بتایاجاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیاکی طرف سے بجلی کی ترسیل کے شعبے میں ایک انقلابی اسکیم کا اعلان متوقع ہے۔ اس اسکیم کے تحت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ترجیحی بنیاد پر ایک سال میں ریاست بھر میں سات لاکھ غرباء کیلئے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ دنیا کے سب سے متحرک شہر ہونے کا امتیاز حاصل کرنے والے شہر بنگلور کی ہمہ جہت ترقی پر وزیر اعلیٰ اپنے بجٹ میں خصوصی توجہ دیں گے۔ شہر بنگلور کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ یہاں کی سہولیات کو اور بھی سدھار نے کی طرف توجہ دیتے ہوئے اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ کل سدرامیا کی طرف سے جو بجٹ پیش ہوگا وہ خالص انتخابی بجٹ ہوسکتا ہے۔