بھٹکل،11؍ستمبر (ایس او نیوز) بائیلور گرام پنچایت رکن واسو نائک نے الزام لگایا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس اسپیشل اسکواڈ کے آٹھ دس اہلکاروں کی ایک ٹولی نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔
شیرالی شاردا ہولے میں واقع مندر کے ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں واسو نے بتایا کہ اس کی صحت خراب ہونے کی وجہ سے رات 12 بجے کے قریب وہ اپنی کار میں علاج کے لئے اسپتال کی طرف جا رہا تھا ۔ راستے میں مرڈیشور ناکہ پر پیشاب کی ضرورت پیش آنے پر فارغ ہونے کے لئے وہ جب کار سے اتر کر سڑک کنارے کھڑا تھا تو دو بائک اور ایک کار میں آنے والے سات آٹھ لوگوں نے پیچھے سے میرے ہاتھ موڑ کر مجھے مارنا شروع کیا ، ساتھ ہی وہ یہ بھی پوچھتے رہے کہ کیا میں چوری کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کہ میں ایک گرام پنچایت کا رکن ہوں اور علاج کے لئے اسپتال جا رہا ہوں ، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی اور مجھے پیٹتے رہے۔
واسو نے مزید بتایا کہ مرڈیشور پولیس اسٹیشن میں میری شکایت درج نہیں کی گئی ۔ میں اسپتال میں داخل ہو کر علاج کروانے اور صحت یاب ہونے کے بعد اب واپس لوٹ آیا ہوں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والے ضلع ایس پی کے خصوصی دستہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میرا مطالبہ ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کڑی قانونی کارروائی کی جائے۔
اس دوران مرڈیشور پولیس تھانے کے سب انسپکٹر پرمانند نے وضاحت کی ہے کہ حملہ ہونے کے دوسرے دن پولیس نے واسو نائک سے ملاقات کی تھی اور انہیں تحریری طور پر شکایت دینے کے لئے کہا تھا ۔ اُس وقت انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے بڑوں سے مشورہ کرنے کے بعد اگلا قدم اٹھاوں گا ۔ ان کی شکایت مسترد نہیں کی گئی تھی۔