ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کامن سیول کوڈ کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کھولا مورچہ ؛ غیرضروری کاموں میں وسائل کو ضائع نہ کرنے حکومت کو دیا مشورہ

کامن سیول کوڈ کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کھولا مورچہ ؛ غیرضروری کاموں میں وسائل کو ضائع نہ کرنے حکومت کو دیا مشورہ

Sun, 18 Jun 2023 08:09:15    S.O. News Service

نئی دہلی،18/جون(ایس او نیوز/ایجنسی) یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کو لے کر  آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ قانون ملک کیلئے غیر ضروری، نا قابل عمل اور انتہائی نقصان دہ ہے بورڈ نے  حکومت  کو مشورہ دیا کہ دہ اس غیر ضروری کام میں ملک کے وسائل کا ضیاع کر کے سماج میں انتشار کا سبب نہ بنے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے پریس ریلیز میں  کہا کہ ہمارا ملک ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی ملک ہے اور یہی تنوع اس کی خاص پہچان ہے۔ ملک کے دستور سازوں نے اس کی  نزاکت اور خصوصیت کا لحاظ رکھتے ہوئے مذہبی اور ثقافتی آزادی کو بنیادی حقوق کی حیثیت دے کر اسے تحفظ فراہم کیا ہے (دفعہ 26،25)۔ مزید برآں دستور کی دفعات 371 (A) / اور 371(G) میں شمال مشرقی ریاستوں کے قبائل کو یہ ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گا جو ان کو ان کے فیملی قوانین  سے محروم کر دے۔بورڈ یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ قانون شریعت، قرآن و سنت سے ماخوذ ہے جس میں مسلمان کسی بھی تبدیلی کے مجاز نہیں ہیں۔

اسی طرح دوسرے مذہبی و ثقافتی گروہ بھی اپنی روایتی و تہذیبی قدروں کو عزیز رکھتے ہیں۔ لہٰذا حکومت یا کسی بیرونی ذریعہ سے پرسنل لاز میں کوئی بھی تبدیلی سماج میں انتشار اور بدامنی کا باعث ہوگی اور کسی بھی معقول حکومت سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ ایک دستوری تقاضہ ہے، تو بورڈ یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ دفعہ 44 دستور ہند کے رہنما اصولوں کے باب میں درج ہے جس کا نفاذ لازمی نہیں ہے۔ جب کہ رہنما اصولوں کے تحت نشہ پر پابندی اور ایسی کئی ہدایات درج ہیں جو عوام کے مفاد میں ہیں لیکن حکومت کو اس کے نفاذ کی کوئی فکر نہیں ہے۔


Share: