کاروار ، 12/ جون (ایس او نیوز) انتخابی ضابطہ اخلاق لاگو ہونے سے صرف ایک ہفتے پہلے کاروار بندرگاہ میں موجود عوامی استعمال اور پارکنگ کے لئے مختص وسیع جگہ تملناڈو کی ایک کمپنی کو لیز پر دینے کے معاملے میں بی جے پی کی سابقہ ریاستی حکومت میں بندرگاہ و بری نقل و حمل کے وزیر ایس انگارا کے علاوہ کرناٹکا واٹر ٹرانسپورٹ بورڈ کے ممبرسیکریٹری کپل موہن آئی اے ایس اور ڈائریکٹر کیپٹن سوامی پر رشوت خوری اور بد عنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں ۔
"دی فائل ڈاٹ ان" پورٹل نے مبینہ 'مصدقہ دستاویزات' کی بنیاد پر جو رپورٹ بنائی ہے اس کے مطابق کرناٹکا کی PRAKRUTEES INFRA IMPEX INDIA PVT LTD کو کاروار سے بندرگاہ سے بیٹومین کی چیزیں بیرونی ممالک کو رفت کے لئے کاروار بندرگاہ کے شمال میں واقع 3 ہزار اسکوائر میٹر وسیع زمین 30 سال کے لئے لیز پر دیا گیا تھا ۔ اس ضمن میں مذکورہ کمپنی اور کرناٹکا واٹر ٹرانسپورٹ بورڈ کے درمیان 28 جنوری 2020 کو کاروار سب رجسٹرار آفس میں معاہدہ کیا گیا تھا ۔
عوامی سطح پر اور کچھ افسران کی طرف سے یہ معاہدہ پر اعتراضات کیے گئے تو اس معاملے پر 5 اکتوبر 2020 کو کرناٹکا واٹر ٹرانسپورٹ بورڈ کی میٹنگ پر بحث کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ پراکریتیس کمپنی کو جو 3 ہزار اسکوائر میٹر جگہ لیز پر دی گئی ہے، اسے واپس لیا جائے اور اس جگہ کو پارکنگ اور عوامی استعمال کے لئے مختص کرتے ہوئے کمپنی کو کوئی اور متبادل جگہ لیز پر دی جائے ۔
مگر اب پتہ چلا ہے کہ مارچ 2023 میں اسمبلی الیکشن کا ضابطہ اخلاق جاری ہونے سے صرف ایک ہفتے پہلے بی جے پی وزیر برائے بندرگاہ اور ان لینڈ ٹرانسپورٹ انگارا اور دیگر افسران نے ہنگامی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے کرناٹکا واٹر ٹرانسپورٹ بورڈ کی جانب سے پارکنگ ایریا کے طور پر مختص کی گئی کاروار بندرگاہ کی3500 اسکوائر میٹر زمین کو تملناڈو سے تعلق رکھنے والی انٹی گریٹیڈ سروس پوائنٹ لمیٹیڈ کمپنی کو لیز پر دینے کا اگریمنٹ کیا ہے اور کاروار سب رجسٹرار آفس میں اسے رجسٹر کیے بغیر ہی اس معاہدہ پر دستخط کیے ہیں ۔
جانکاروں کی طرف سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر جو زمین کرناٹکا کی ایک بہت بڑی کمپنی سے واپس لی گئی تھی اور اسے صرف عوامی مقصد کے لئے مختص کیا گیا تھا تو اسی زمین کو پوری طرح قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی اس طرح ہنگامی طور پر تملناڈو کی کمپنی کو لیز پر دینے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی ۔ اسی بناء پر شبہ کیا جا رہا ہے اس ڈیل میں شاید بڑا گول مال ہوا ہے اس لئے موجودہ حکومت کو گہرائی سے اس کی تحقیقات کرنی چاہیے ۔