تعلیمی شعبہ پر زیادہ توجہ مبذول کرنے، خواتین کو سلائی مشینوں کی تقسیم ،20اسمبلی حلقوں میں ڈیالیسس سنٹرز کا قیام اورکئی ترقیاتی پروگراموں کا اعلان
بنگلورو۔25؍مارچ(ایس اونیوز) کسی نئے ٹیکس کا بوجھ شہریان پر نہ ڈالتے ہوئے شہر کے عوام سے وعدے نہ کرتے ہوئے ، بنیادی سہولیات پر زور دے کر وسائل اکٹھا کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے بروہت بنگلور مہانگر پالیکے(بی بی ایم پی) ٹیکس اینڈ فائنانس اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے9241کروڑ روپئے کا2017-18کا بی بی ایم پی بجٹ کو آج کونسل اجلاس میں پیش کیا۔ بی بی ایم پی کی حدود میں زمینات میں منتقل جائیدادوں سے بیٹر منٹ فیس وصولی کے ذریعہ140کروڑ آمدنی کی توقع ہے۔ جائیداد ٹیکس سے2600کروڑ، ذیلی ٹیکس سے624 کروڑ روپئے، جرمانہ کے ذریعہ175کروڑ، کچرا نکاسی کے ذریعہ50کروڑ، مرکزی عمارتوں سے سرویس ٹیکس کے ذریعہ65کروڑ سمیت3726کروڑ روپئیوں کی آمدنی کی متوقع حکومت سے4249کروڑ روپیوں کا فنڈ،کسی نئے ٹیکس کا اعلان کئے بغیر معاشی حالت میں بہتری لانے کے مقصدسے گنا شیکھر نے آج بی بی ایم پی بجٹ پیش کیاہے۔گزشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ تعلیمی شعبہ پر زیادہ توجہ مبذول کی گئی ہے۔ اشتہاراتی ٹیکس سے85.50کروڑ روپئے، آئیکل کیمبل اور روڈ کیٹنگ سے350.05کروڑ، سٹی پلاننگ شعبہ461.85کروڑ روپئے حاصل کرنے کی توقع کی گئی ہے۔ ریاستی اور مرکزی حکومت سے4249.82کروڑ کے فنڈ کی توقع کرتے ہوئے فلائی اوور ،گریڈ سپریٹر،انڈر پاس، پارکوں ،رنگامندروں سمیت دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ گنا شیکھر نے بتایا کہ نما سونتا منے(خود کے مکان) اسکیم کے تحت فی مکان کی تعمیر کے لئے جس کا سائز24.10اسکوائر فیٹ ہو۔ درج فہرست ذاتوں وقبائلی طبقات کے لئے وارڈوں میں مکانات تعمیر کرنے کے لئے100کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ اس مرتبہ بی بی ایم پی بجٹ میں خواتین کے لئے بمپر فنڈ مختص رکھاگیاہے۔ اور ہر وارڈ کے لئے7-.40کروڑ روپئے خواتین کی فلاح وبہبود کے لئے جاری کئے جائیں گے۔ خواتین کی نمائندگی کے وارڈوں میں صحت، تعلیم اورثقافتی پروگرامس ہر ایک وارڈ کے لئے5لاکھ روپئے کے تحت بجٹ میں5.10کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔مسٹر گنا شیکھر نے بتایا کہ اس مرتبہ خواتین کو سلائی مشینیں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ جس کے تحت ہر ایک وارڈ کو50سلائی مشینیں جاری کرنے کے مقصد سے8کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ دودھ اوراخبارات ڈالنے والے لڑکوں کے لئے ہر ایک وارڈ کو50باسیکل تقسیم کرنے کے لئے4کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہریان فلاحی کاموں کے لئے اس مرتبہ خصوصی طورپر503.25کروڑ روپئے کا فنڈ مختص رکھاگیاہے۔ تعلیمی شعبہ کے لئے اس مرتبہ گزشتہ مرتبہ کے مقابل افزود فنڈ مختص رکھاگیاہے۔ اس شعبہ کے لئے89.39کروڑ روپئے کا فنڈ مختص کیاگیاہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد سے افزود فنڈ مختص رکھاگیاہے۔ بی بی ایم پی اسکولس کالجوں کے طلبا کے ہیلتھ انشورنس کے لئے1.75کروڑ روپئے، پی یو سی طلبا کے لئے سی ای ٹی کوچنگ سمیت دیگر کی تربیت کیلئے دو کروڑ روپئے، بی بی ایم پی کے153اسکولس کے لئے فی کس10بورڑ کے حساب سے1.53کروڑ روپئے، کارپوریشن اسکولس اور کالجوں کے احاطے میں رین واٹرہارویٹنگ نظام صب کرنے کے لئے ایک کروڑ روپئے، اسکول کالجوں کے طلبا کے لئے ایس سی سی، اسکاٹ اینڈ گائیڈس، این ایس ایس، کے لئے درکار سہولیات فراہم کرنے، کارپوریشن اسکول اور کالجوں کے طلبا کے انشورنس کے لئے1.75کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ کارپوریشن اسکولس اور کالجوں کی عمارتوں کی تجدید کاری اور نئے اسکولس کی تعمیر کے لئے20کروڑ روپئے،عمارتوں کی تجدید کاری کے لئے15کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کی وجہ سے ٹریفک اژدھام اور اس سے شہریان کو پیش آرہی پریشانیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے نئی پارکنگ پالیسی جاری کرنے کے لئے بی بی ایم پی اقدام کرے گا۔ بی بی ایم پی اور نجی ساجھیداری کے تحت ہائی ٹیک پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ نجی مالکان کے پارکنگ اسانڈ تعمیر کرنے کے لئے آگے آنے کی صورت میں ایسی تجویز پر خصوصی رعایت دیتے ہوئے اس تجویز کو حکومت کے آگے پیش کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ فٹ پاتھوں پر گاڑیوں کو کھڑا کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے پارکنگ جگہوں کی نشاندہی کرنے کا بھی فیصلہ کیاگیاہے۔گنا شیکھر نے اپنے بجٹ میں بی بی ایم پی اسکول کالجوں میں خفیہ کیمرے نصب کرنے، آگ بجھانے کے آلات، فرسٹ اینڈ اور پینے کے لئے پاک وشفاف پانی فراہم کرنے کے لئے آر او پلائنٹس نصب کرنے، اسکول کی عمارتوں کی تجدید کاری، سیول تعمیراتی کاموں اور مرمت کے لئے15کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ 32 ہائی اسکولوں میں ٹیلی ایجوکیشن شروع کئے جائیں گے۔ کارپوریشن کے153اسکولس کے لئے بورڈس بھی تقسیم کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ اسکولس اور کالجوں میں کھیل سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے50لاکھ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ گنا شیکھر نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی اہم اسکیم،،نماکینٹین‘‘ اسکیم کے لئے بی بی ایم پی نے 100کروڑ روپئے مختص رکھے ہیں۔شہر کے 198 وارڈوں میں نما کینٹن شروع کرنے کے لئے جاریہ سال بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناشتہ 5روپئے، دوپہر اور رات کا کھانا10روپئے میں دستیاب ہوگا۔گنا شیکھر نے بتایا کہ بی بی ایم پی انتظامیہ میں بہتری لانے کے مقصد سے ای انتظامیہ پر زیادہ زور دیاگیاہے اور اب بغیر کاغذات کے انتظامیہ چلانے کے متعلق بجٹ میں صاف طورپر اعلان کیاہے۔انہوں نے بتایا کہ شہریان کی بہتر خدمت انجام دینے افسران اور ملازمین پر بوجھ کم کرنے کے مقصد سے ای میل اور ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعہ ہر بات کی اطلاع دی جائے گی۔ گنا شیکھر نے بتایا کہ اس مرتبہ بی بی ایم پی میں ’’پراواچنا‘‘ٹیم تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور کیاجارہاہے۔ اس کے علاوہ شہر میں کوڑا کرکٹ کی نگرانی کے لئے مارشلس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ اس کے لئے7کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی خوبصورتی بحال رکھنے کے مقصد سے مارشلس کے خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی کرمچاریوں کی سہولت کے لئے ریسٹ روم تعمیر کرنے کے لئے10کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ بی بی ایم پی کی حدود کی تمام198وارڈوں میں کمپوزٹ خریدی مرکز قائم کئے جائیں گے۔ اس کے متعلق عوام میں بیداری پیدا کرنے اور کوڈا نکاسی کے لئے751کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ گنا شیکھر نے اپنے بجٹ میں محکمہ باغبانی کے لئے114.30کروڑ روپئے، تالابو ں کی ترقی کے لئے89.50کروڑ،210پارکوں کی ترقی کے لئے40کروڑ،20اسمبلی حلقوں میں 20ڈیالیسس سنٹرز کا قیام، صفائی کرمچاریوں کی فلاح وبہبودی کے لئے29.5کروڑ روپئے،شمشان گھاٹوں کی ترقی کے لئے125کروڑ روپئے،ٹنڈر شور کے تیسرے اسٹیج کے تعمیرمی کاموں کیلئے250کروڑ روپئے،مختص کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ بی ٹی ایم لے آؤٹ،شیواجی نگر، سرگنا نگر کے اسمبلی حلقوں میں سوپر اسپیشلیٹی اسپتالوں کا قیام، شہر کے تمام مکانوں کو ڈیجیٹل نمبرات، بڑے برساتی نالوں کی دیکھ بھال پر زور دیاگیاہے۔ اس کے علاوہ بی بی ایم پی کے نئے زونس میں12سمودیا بھون کی تعمیر کے لئے24کروڑ روپئے۔نئے وارڈ دفاتر کی تعمیر کے لئے10کروڑ روپئے، سورنا پالیکے سودھا کی تعمیر کے لئے5کروڑ روپئے، ایچ ایم ٹی وارڈ میں دیوراج ارس کلاکیشترا کی تعمیر، شہریان کی فلاح وبہبود کے لئے503کروڑ روپئے، نما سونتامنے(خود کا مکان) اسکیم کے لئے100کروڑ،12علاقوں میں پارکنگ کے لئے ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر649کروڑ روپیوں کی لاگت سے43سڑکوں کی ترقی، کے لئے فنڈ مختص رکھی گئی ہیں۔گنا شیکھر نے بتایا کہ شہر میں50کروڑ روپئیوں کی لاگت سے1000عوامی بیت الخلاء کی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ نجی ساجھیداری کے تحت بی بی ایم پی کی حدود میں آنے والے5لاکھ اسٹریٹ لائٹس کو ایل ای ڈی بلبس میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے لئے4کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال2017-18کے دوران شہر میں10لاکھ روپیوں کی شجرکاری کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔جس کے لئے6؍کروڑ روپئے مختص رکھے گئے ہیں۔ گنا شیکھر نے بتایا کہ کارپوریٹروں کے لئے اعزازی شاہرہ15 لاکھ سے بڑھاکر20لاکھ، کونسل بھتہ9.60لاکھ سے بڑھاکر10لاکھ، ٹیلی فون خرچ،52لاکھ، سابق کارپوریٹرس کے لئے میڈیکل ایڈ5 لاکھ،موجودہ کارپوریٹران کے لئے10لاکھ ،وارڈ سطح کے اجلاس کے لئے20لاکھ کا فنڈ مختص کیاگیاہے۔ مےئر میڈیکل فنڈ کے لئے50لاکھ، خواتین کارپوریٹرس کے ثقافتی پروگرامس کے لئے 15لاکھ ،کارپوریشن تقریبات کے لئے35لاکھ، یوم صفائی کرمچاری تقریبات کے لئے75لاکھ، ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر جنم دن تقریبات کے لئے ایک کروڑ،یوم جمہوریہ، یوم آزادی سمیت دیگر قومی تہواروں کے لئے ایک کروڑ5لاکھ ،دسہرہ تقریبات کے لئے25لاکھ، کیمپے گوڈا مجسمہ نصب کرنے، کیمپے گوڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ میں کیمپے گوڈا کے مجسمے نصب کرنے سمیت دیگر کاموں کے لئے25لاکھ، کنڑا راج اتسوا تقریبات کے لئے10لاکھ، کرگا تقریبات کے لئے ایک کروڑ21لاکھ، یوم کیمپے گوڈا تقریبات کے لئے75لاکھ روپئے مختص رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے بجٹ سے زائد ہے۔ قبل ازیں گنا شیکھر نے بجٹ پیش کرنے سے قبل کولمبیا ایشیاء اسپتال پہنچ کر زیر علاج اپنی ماں کی عیادت کی اور ان کا آشیرواد حاصل کیا۔ جس کے بعد مےئر سے ملاقات کرکے راست کونسل ہال پہنچے اور صبح11بجے2017-18کا بجٹ پیش کیا۔