نئی دہلی،16؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ستاپور میں درج کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو جمعہ کو دہلی کے پٹیالہ کورٹ نے دہلی میں درج اس کیس میں بھی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا ہے، جس میں انہیں سب سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ کورٹ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ”جمہوریت میں اختلافی آواز میں ضروری ہیں اور سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ اگر عوام کو ان کی رائے کے اظہار کی اجازت نہ دی گئی تو جمہوریت فروغ پاۓ گی ، نہ ٹھیک سے کام کر سکے گی۔“
7 میں سے 2مقدموں میں ضمانت: فرضی خبروں کو بے نقاب کرنے والے محمد زبیر کو اب تک 7 معاملوں میں سے 4 میں گرفتار کیاجاچکا ہے جن میں سے جمعہ کوانہیں دوسرے معاملے میں بھی ضمانت مل گئی لکھیم پور کھیری میں درج معاملے میں ضمانت کی ان کی درخواست زیر شنوائی ہے جبکہ جمعرات کو انہیں ہاتھرس کے کیس میں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں 14 دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ یوپی میں محمد زبیر کے خلاف کل 6 معاملے درج ہیں۔ اندیشہ ہے کہ تھیم پورکھیری اور ہاتھرس میں ضمانت ملنے پر انہیں دیگر معاملوں میں گرفتار کیا جائے گا۔ محمد زبیر نے یوپی میں درج کی گئی تمام6 ایف آئی آرکو خارج کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر دی ہے۔
ابھی جیل میں ہی رہنا ہوگا: دہلی پولیس کے کیس میں محمد زبیر کو جمعہ کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ اور ایک شخص کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا ۔ اس سے قبل سپریم کورٹ انہیں سیتاپور میں درج کیس میں تاحکم ثانی مشروط ضمانت دے چکی ہے تاہم ان کی رہائی ابھی ممکن نہیں ہوگی ۔محمد زبیر لکھیم پور کھیری اور ہاتھرس کیس میں بھی ضمانت حاصل کرنی ہوگی اوراگر یوپی میں درج کئے گئے دیگر مقدموں میں ان کی گرفتاری ہوتی تو ان میں بھی ضمانت حاصل کرنی ہوگی۔
سیاسی جماعتیں تنقید سے بالاتر نہیں: پٹیالہ کورٹ میں محمد زبیر کی ضمانت کی مخالفت میں وکیل استغاثہ نے دلیل دی کہ زبیر نے اپنے ٹویٹ میں 2014سے قبل اور2014 کے بعد کہہ کر ایک سیاسی جماعت کی طرف اشارہ کیا ہے کیوں کہ 2014 میں مودی بر سراقتدار آۓ تھے، جواب میں کورٹ نے کہا کہ ”ہندوستانی جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں پر تنقید کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پالیسیوں پر تنقید سے بچنے کیلئے سیاسی پارٹیاں اپنا منہ نہیں چھپاسکتیں۔ صحت مند جمہوریت کیلئے اختلافی آواز میں ضروری ہیں اس لئے صرف کسی پارٹی پر تنقید کرنے کی پاداش میں دفعہ 153(اے) اور 295(اے) کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ۔
زبیر کے وکیل کے دلائل سے اتفاق : کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر شنوائی کے دوران محمد زبیر کے وکیل کی اس دلیل سے بھی اتفاق کیا کہ رشی کیش مکھر جی کی مذکورہ فلم کو سینسر بورڈ نے سرٹیفکیٹ دیا ہے اور اب تک کہیں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی کہ اس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوۓ ہوں۔ کورٹ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ پولیس شکایت کرنے والے کو تلاش تک نہیں کر سکی۔