ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بچوں کو امی اور ابو کہنا سکھانے پر بھی قدامت پسندوں کو اعتراض؛ کیا اردو، عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال بند کرنا ہوگا ؟

بچوں کو امی اور ابو کہنا سکھانے پر بھی قدامت پسندوں کو اعتراض؛ کیا اردو، عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال بند کرنا ہوگا ؟

Sun, 17 Jul 2022 10:46:18    S.O. News Service

جے پور،17؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) دنیا بھر میں الگ الگ زبانوں میں والدین کیلئے الگ الگ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور بلاتفریق مذہب و ملت بچے اور بڑے والدین کیلئے اپنی پسند کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سخت گیر ہندو ، اردو، عربی اور فارسی زبان کے الفاظ کا استعمال برداشت نہیں کر پا رہے ہیں اور جہاں انہیں ایسے الفاظ نظر آتے ہیں وہ ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں۔

تازہ معاملہ راجستھان کے کوٹا شہر سے منظر عام پر آیا ہے جہاں کچھ لوگوں نے اس بات پر اعتراض ظاہر کیا ہے کہ ایک انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھائی جانے والی کتاب میں ماں اور باپ کیلئے امی اور ابو کا استعمال کیا گیا ہے۔ گلموہر نامی یہ کتاب درجہ دوم کے بچوں کو پڑھائی جا رہی ہے۔

آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق  بعض  والدین کو شکایت ہے کہ بچوں کو اس کتاب کو پڑھانے کے نتیجہ میں بچے انہیں گھر پر امی ابو کہہ کر مخاطب کرنے لگے ہیں اور بریانی کا بھی مطالبہ کرنے لگے ہیں! گلموہر نام کی اس کتاب کو حیدرآباد کے ایک پبلشر نے شائع کیا ہے اور اسے سی بی ایس ای کے درجہ دوم کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے لیڈروں نے ریاست کے محکمہ تعلیم میں شکایت درج کرائی ہے۔

ایک شکایت کنندہ نے کہا کہ ہمارے بچے روایتی برہمن خاندان میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے ہیں۔ جب ہمارا سات سال کا بچہ بریانی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے سمجھانا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ وہی بول رہا ہے  جو اسے اسکول میں سکھایا گیا ہے۔

ایک دوسرے شخص نے الزام عائد کیا کہ یہ کتاب اسکولی تعلیم میں اسلام کو غالب کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ان کے بچوں اور ہندو ثقافت کے درمیان ایک کھائی پیدا کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی بی ایس ی کی جاری کردہ یہ کتاب 113 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 352 روپے ہے۔


Share: