بنگلورو،17؍جنوری(ایس او نیوز) آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس کی جنرل سکریٹری محترمہ پرینگا گاندھی نے کسی بھی طرح ریاست کا اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کی سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئےبن کانگریس نے ہر گھر 200یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے اعلان کے ساتھ اب یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ہر خانہ دار خاتون کو 2000روپئے کی ماہانہ مالی مدد دے گی۔یہ رقم گرہا لکشمی اسکیم کے تحت دی جائے گی۔
بنگلورو شہر کے پیالس گراؤنڈ میں مہیلا کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ نا نائیکی پروگرام کے دوران اے آئی سی سی جنر ل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا،کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار اور دیگر قائدین نے اس کا اعلان کیا۔کانگریس کی طرف سے اس ضمن میں کئے گئے ٹویٹ میں خانہ دار خواتین سے مخاطب ہو کر کہا گیا ہے کہ وہ اب گیس سلنڈر کے لئے پریشان نہ ہوں بلکہ ان کے سلنڈر بھرنے کی ذمہ داری کانگریس کی ہے۔
اس پروگرام سے خطاب کے دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے کرپشن کے ذریعہ 1.5لاکھ روپے کی لوٹ مچا رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے صورتحال کو انتہائی ابتر بنا رکھا ہے۔حالیہ پولیس سب انسپکٹر بھرتی گھپلے کا حوالے دے کر پرینکا گاندھی نے کہا کہ کافی محنت کر کے جب آپ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں گے اور اس کے بعد حکومت میں شامل سیاستدانوں کو آپ اپنے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے دیں گے؟۔ کیا ایسی حکومت سے آپ اچھے مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس سب انسپکٹروں کی بھرتی کے معاملہ میں جو دھاندلی کی گئی ہے وہ باعث شرم ہے۔ یہ گھپلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی نے سرکاری نوکریوں کو فروخت کے لئے رکھ دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی حکومت کے دور میں عوام کی زندگی بہتر ہو گئی ہے۔کوئی بدلاؤ آ گیا ہے۔ انتخابات کے دوران جب آپ ووٹ دینے جائیں گے،اس وقت محاسبہ کریں اور اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ کیا واقعی بی جے پی حکومت نے وہ سب کر دیا ہے جس کی اس سے عام آدمی نے امید کی تھی۔ ا س کے بعد ووٹ کریں۔
انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی کے لئے اگر8ہزار کروڑ روپے کا بجٹ دیا جا رہا ہے تو اس میں سے اقتدار میں جو لوگ ہیں وہ40فیصد کمیشن کھا رہے ہیں۔ عوام کا پیسہ کھلے عام لوٹا جا رہا ہے۔پرینکا نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا خیال ضرور رہتا ہے کہ وہ کسی ایک طبقہ کو خو ش کریں لیکن اس بات کا خیال کبھی نہیں آتا کہ سماج کے آدھے حصہ پر مشتمل خواتین کو کس طرح سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر مطمئن کریں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے وہ یہاں موجود خواتین سے سوال کرنا چاہیں گی کہ کیا بی جے پی نے جن اچھے دنوں کا وعدہ کیا تھا وہ دن آ گئے۔ کیا مہنگائی کم ہو گئی۔ آپ کی زندگی میں سب کچھ مثبت ہو رہا ہے۔ عوام کو طے کرنا ہے کہ ان کے لئے کون بہتر ہے، وہ جو ان کے ساتھ انصاف کی بات کرتے ہیں، ان کو ان کا جائز حق دینے کی بات کرتے ہیں یا وہ جو ان کی رقم میں سے 40فیصد کمیشن کھانا چاہتے ہیں۔کورونا کے دور میں حکومت نے کچھ نہیں کیا، خواتین کو تو اس نے فراموش ہی کر دیا تھا۔ اس بات پر غور کریں کہ کانگریس کے دور میں گیس سلنڈر کتنے کا ملتا تھا اور اب کتنے کا مل رہا ہے۔
دن بدن زندگی گزارنا مشکل تر ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوک امیر سے امیر ترین ہوتے جارہے ہیں ملک کا پورا انتظامیہ کچھ سرمایہ کاروں کا غلام بن چکا ہے، عام آدمی اپنی روزمرہ کی پریشانیوں میں اضافہ سے بدحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اگر کرناٹک میں اقتدار حاصل کیا تو گرہا لکشمی اسکیم کے تحت ہر خانہ دار خاتون کو ماہانہ 2ہزار روپے کی مالی امداد کے حساب سے سالانہ 24ہزارر وپے کی رقم دے گی۔گرہا جیوتی اسکیم کے تحت ہر گھر کو 200یونٹ بجلی مفت فراہم کی جائے گی۔پرینکا نے کہا کہ اتر پردیش میں جب انہوں نے خواتین کے لئے الگ انتخابی منشور بنایا تو سب نے ان کا مذاق اڑایا۔
اس بات کا افسوس ہے کہ اس ریاست میں کانگریس کو زیادہ ووٹ نہیں ملے، لیکن اس کے بعد کانگریس نے طے کیا کہ ہر ریاست میں خواتین کے لئے الگ سے منشور بنایا جائے گا۔اس موقع پر اے آئی سی سی جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار، سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا، کونسل کے اپوزیشن لیڈر بی کے ہری پرساد اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔